کراچی:
سندھ کے ساحلی علاقوں میں صدیوں سے آباد ماہی گیر خاندانوں کی زندگی دریائے سندھ کے بہاؤ سے جڑی رہی ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں دریا کے پانی کی مقدار میں کمی کے باعث سمندری پانی اندرونِ زمین گھس آیا ہے، جس نے زرخیز زمینوں کو تباہ اور ہزاروں خاندانوں کو اپنی آبائی بستیاں چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
پاکستان فشر فوک فورم کی مرکزی رہنما یاسمین شاہ کے مطابق یہ مسئلہ نیا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی بار 1950 میں زمینی کٹاؤ کی اطلاع ملی تھی۔ ’’اب تک تقریباً 35 لاکھ ایکڑ زمین سمندر کی نذر ہو چکی ہے۔ متعدد ماہی گیر گاؤں سمندر میں ڈوب گئے، اور ہزاروں خاندانوں کو کراچی سمیت دیگر شہروں کی طرف ہجرت کرنا پڑی تاکہ روزگار تلاش کیا جا سکے،‘‘ انہوں نے ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے کہا۔
یاسمین شاہ نے مزید کہا کہ مسلسل حکومتوں کی بے حسی نے چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے ماہی گیروں کی کمر توڑ دی ہے۔ ’’سندھ حکومت کی پالیسیوں نے ماہی گیری کے ٹھیکہ سسٹم کو مزید مضبوط کیا ہے جس سے غریب ماہی گیر شدید متاثر ہوئے ہیں۔ نہ سماجی تحفظ ہے، نہ کوئی سہارا۔ اب وفاقی حکومت کی نئی ماہی گیری پالیسی بھی بڑی کمپنیوں کے مفادات کو تحفظ دیتی نظر آتی ہے، نہ کہ مقامی برادری کے حقوق کو،‘‘ انہوں نے شکوہ کیا۔
آفات سے نمٹنے اور بحالی کے ماہر نصیر میمن کا کہنا ہے کہ اس بحران کی جڑ دریا کے بالائی علاقوں میں بندوں کی تعمیر ہے۔ ان کے مطابق تربیلا ڈیم کی تعمیر سے قبل ہر سال تقریباً تین لاکھ کیوسک پانی سندھ کے کچے علاقوں تک پہنچتا تھا اور ہر چند سال بعد یہ مقدار پانچ لاکھ کیوسک تک جا پہنچتی تھی۔ ’’اب صورتحال بالکل مختلف ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
نصیر میمن نے بتایا کہ 2022 میں کوٹری بیراج سے ایک غیر معمولی بڑی مقدار میں پانی سمندر میں چلا گیا، مگر یہ زیادہ تر دریا کا پانی نہیں بلکہ منچھر جھیل کے ٹوٹنے سے بہنے والا پانی تھا۔ ’’پاکستان کو پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے منصوبوں کی ضرورت ہے جن میں بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم اور کچھی و رینی کینال شامل ہیں، جن کے لیے کم از کم 1 کروڑ 20 لاکھ ایکڑ فٹ پانی درکار ہے۔ لیکن نچلا سندھ مسلسل محروم ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
ان کے مطابق کوٹری بیراج کے بعد دریا کو سمندر تک پہنچنے کے لیے 300 میل کا سفر طے کرنا پڑتا ہے، جہاں ٹھٹھہ، سجاول اور بدین جیسے اضلاع واقع ہیں، جو دو ملین آبادی کا مسکن ہیں۔ ’’کیا یہ لوگ پانی کے مستحق نہیں؟ اگر مزید نہریں نکالی گئیں تو ان علاقوں کے لوگوں کو پینے کے پانی سے محروم کر دیا جائے گا،‘‘ انہوں نے خبردار کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈس ڈیلٹا کو بچانے کے لیے کم از کم پانچ ہزار کیوسک روزانہ، یا پانچ برسوں میں 2 کروڑ 50 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کوٹری کے نیچے سے گزرنا لازمی ہے۔ مگر مون سون کے علاوہ یہ مقدار کبھی پوری نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ساحلی پٹی کی پانچ لاکھ ہیکٹر زرخیز زمین مسلسل سمندر برد ہو رہی ہے۔
اسی دوران ماہی گیر برادری میں اصلاحات کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ فاطمہ مجید، جو حال ہی میں فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کی چیئرپرسن منتخب ہوئی ہیں، نے وعدہ کیا کہ وہ فلاحی منصوبوں کو اولین ترجیح دیں گی۔ ’’ہمارے ماہی گیر طویل عرصے سے مشکلات جھیل رہے ہیں۔ ہم روزگار کے مواقع بڑھانے، فلاحی منصوبے شروع کرنے اور مچھلی کی برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات کریں گے تاکہ پائیدار روزگار فراہم کیا جا سکے،‘‘ انہوں نے کہا۔
ایکسپریس ٹریبیون نے سندھ کے ڈائریکٹر جنرل فشریز سراج احمد سولنگی سے حکومتی اقدامات کے بارے میں موقف لینے کی کوشش کی، مگر طویل انتظار کے باوجود کوئی جواب موصول نہ ہو سکا۔