چانگان نے اپنی تمام گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جو کہ یکم جولائی 2025 سے مؤثر ہو چکا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق چانگان کے تمام ماڈلز پر ہوگا، اور قیمتوں میں اضافہ تمام ویریئنٹس میں کیا گیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ قیمتیں حالیہ وفاقی بجٹ 2025-26 میں کی گئی ترامیم اور آٹو انڈسٹری پر اس کے اثرات کی روشنی میں اپڈیٹ کی گئی ہیں۔ چانگان کے مطابق، نئی حکومتی پالیسیوں، خصوصاً "نیو انرجی وہیکل ایڈاپشن لیوی (NEV)” کے نفاذ کے بعد قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہو گئی تھی۔
گاڑیوں کی نئی قیمتیں کچھ یوں ہیں:
| ماڈل | پچھلی قیمت | نئی قیمت | اضافہ |
| اوشان X7 | |||
| Comfort (7 سیٹر) | 8,299,000 | 8,474,000 | 175,000 |
| FS (5 سیٹر) | 8,949,000 | 9,149,000 | 200,000 |
| FS (7 سیٹر) | 9,099,000 | 9,299,000 | 200,000 |
| السوِن | |||
| MT Comfort | 4,099,000 | 4,189,000 | 90,000 |
| Lumiere | 4,799,000 | 4,899,000 | 100,000 |
| Lumiere Black Edition | 4,899,000 | 4,999,000 | 100,000 |
| کاروان | |||
| Power Plus 1.2 | 3,199,000 | 3,249,000 | 50,000 |
| شیراپا | |||
| Power 1.2 | 2,304,000 | 2,349,000 | 45,000 |
اس قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے متعارف کرایا گیا "نیو انرجی وہیکل” ٹیکس ہے، جو گاڑی کے انجن کی طاقت کے مطابق 1 سے 3 فیصد کے درمیان لاگو ہوتا ہے۔
اگرچہ کچھ آٹو مینوفیکچررز نے اضافی لاگت کو خود برداشت کیا ہے، مگر بیشتر کمپنیاں، بشمول چانگان، اس بوجھ کو صارفین پر منتقل کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، مستقبل قریب میں دیگر کار ساز کمپنیاں بھی اسی طرز پر قیمتوں میں رد و بدل کر سکتی ہیں، کیونکہ بجٹ کے اثرات صرف چانگان تک محدود نہیں ہیں بلکہ پوری آٹو انڈسٹری کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔