گوگل نے پاکستان میں رجسٹریشن مکمل کرلی، مقامی دفتر جلد قائم ہوگا: شازہ فاطمہ

اسلام آباد — وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشن شازہ فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے پاکستان میں اپنی رجسٹریشن مکمل کر لی ہے اور جلد ہی ملک میں اپنا پہلا مقامی دفتر قائم کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی حری پور، خیبر پختونخوا میں گوگل کروم بُکس کی مقامی تیاری کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
شازہ فاطمہ نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’گوگل نے پاکستان میں رجسٹریشن مکمل کر لی ہے اور اب یہاں اپنا دفتر کھولنے جا رہا ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ حری پور میں گوگل کروم بُکس کی مقامی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ ’’ہر سال تقریباً پانچ سے چھ لاکھ کروم بُکس پاکستان میں تیار کیے جائیں گے،‘‘ انہوں نے کہا، ’’یہ منصوبہ نہ صرف ٹیکنالوجی اور بہترین طریقۂ کار کی منتقلی کا باعث بنے گا بلکہ براہِ راست روزگار کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔‘‘
چار نومبر کو یہ اسمبلی لائن گوگل فار ایجوکیشن کے مقامی پارٹنر ٹیک ویلی، این آر ٹی سی، اور آسٹریلوی کمپنی الائیڈ کے اشتراک سے قائم کی گئی، اور اب اس کی کاروائیاں حری پور میں جاری ہیں۔
شازہ فاطمہ کے مطابق یہ اقدام وزیرِاعظم شہباز شریف کے اُس وژن کے مطابق ہے جس کے تحت پاکستان میں آئی ٹی مصنوعات کی مقامی تیاری سے لاگت میں کمی اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ممکن ہوگا۔ ’’ہماری منزل یہ ہے کہ پاکستان میں تیار ہونے والے کروم بُکس کو برآمد کیا جائے، اور یہ صرف شروعات ہے — ہم اس اسمبلی لائن کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزارتِ آئی ٹی اور گوگل کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) طے پا چکی ہے جس کے تحت نوجوانوں کو خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں تربیت دی جائے گی، جبکہ ملک میں اے آئی لیبز قائم کرنے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔
شازہ فاطمہ نے کہا کہ پاکستان کا عالمی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ تعاون تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق ’’میٹا‘‘ نے اپنا جدید لینگویج ماڈل ’’Llama AI‘‘ اردو زبان میں متعارف کروا دیا ہے — جو صرف چند ممالک میں دستیاب ہے۔ ’’یہ پاکستان کے ڈیجیٹل سیکٹر پر میٹا کے اعتماد کی علامت ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ٹک ٹاک کا نیا ’’STEM فیڈ‘‘ — جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے مواد کے لیے مخصوص ہے اب پاکستان میں بھی دستیاب ہے۔ ’’یہ فیچر پاکستانی صارفین کو مفت تعلیمی مواد تک رسائی دیتا ہے، جس سے ٹک ٹاک ایک مثبت اور تعلیمی پلیٹ فارم بن سکتا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
آخر میں شازہ فاطمہ نے بتایا کہ سعودی عرب کی کمپنی ’’گو ٹیلی کام‘‘ نے پاکستان میں ایک ’’اے آئی حب‘‘ قائم کیا ہے جو سعودی کمپنیوں کو پاکستانی ٹیکنالوجی فرموں سے آن لائن جوڑے گا۔ ’’اس اقدام سے پاکستانی فری لانسرز اور اسٹارٹ اپس سعودی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکیں گے، بغیر وہاں دفتر قائم کیے۔ یہ اقدام برآمدات بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور نئے کاروباری دروازے کھولنے میں مدد دے گا،‘‘ انہوں نے کہا۔

More From Author

پاکستان کی معروف دانشور ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ انتقال کر گئیں

ایپل اگلے ماہ پاکستان کی مارکیٹ میں داخل ہونے جا رہا ہے: شازہ فاطمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے