گلگت – یکم اگست 2025:
گلگت بلتستان کے 37 علاقوں میں شدید طوفانی بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب کے بعد ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔ ہولناک سیلاب نے کم از کم 10 قیمتی جانیں نگل لیں، جن میں اکثریت سیاحت کے لیے آئے ہوئے افراد کی تھی، جب کہ متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں یا بے گھر ہو چکے ہیں۔
شدید مون سون بارشوں سے پیدا ہونے والے اس بحران نے خطے میں تباہی کی ایک نئی داستان رقم کی ہے، جس کے نقصانات کا تخمینہ 20 ارب روپے سے زائد لگایا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ان علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے اور "نیشنل کیلامیٹیز (پریوینشن اینڈ ریلیف) ایکٹ 1958” کے تحت اقدامات شروع کیے جا رہے ہیں۔
جن اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے ان میں دیامر کے 12، گلگت کے 9، غذر کے 5، اسکردو اور شگر کے 4-4، گانچھے کے 2 اور نگر و کھرمنگ کے ایک ایک علاقہ شامل ہیں۔ متاثرہ دیہات میں پاری بنگلہ، دنیور، باگروٹ، بیارچی، تھوئی، کونڈوس، ہلدی اور خوبصورت نیات ویلی کے کچھ حصے شامل ہیں۔
محکمہ داخلہ کے سیکرٹری سید علی اصغر نے نوٹیفکیشن میں کہا:
"ان علاقوں میں انسانی جانوں، مویشیوں، مکانات، کھڑی فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ لوگ اپنے پیاروں، روزگار اور رہائش سے محروم ہو چکے ہیں۔”
حکومتی ترجمان فیض اللہ فراق نے ایک پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ سیلاب سے 10 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں اکثریت سیاحوں کی ہے، جب کہ چار افراد زخمی ہیں جنہیں فوری طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ریسکیو ٹیمیں اب بھی 10 سے 15 لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جن کے بہہ جانے کا خدشہ ہے۔”
سیلاب نے نہ صرف 509 گھروں کو مکمل طور پر تباہ کیا بلکہ 22 گاڑیاں بھی پانی کی نذر ہو گئیں۔ متعدد سڑکیں، پل، پانی کی پائپ لائنیں اور بجلی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے دور دراز علاقوں تک رسائی بھی معطل ہو گئی ہے۔
حکومت نے بحالی کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا ہے۔ فیض اللہ فراق نے بتایا کہ "ہم نے اپنے وسائل سے 44 کروڑ روپے جاری کیے ہیں تاکہ پانی، بجلی اور سڑکوں جیسے بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کی جا سکے۔”
متاثرہ خاندانوں میں خیمے، کمبل، کھانے پینے کا سامان اور کچن سیٹ تقسیم کیے جا رہے ہیں، جب کہ تباہ شدہ گھروں کی مرمت کا عمل بھی مرحلہ وار جاری ہے۔ تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ تباہی کی شدت مقامی وسائل سے کہیں زیادہ ہے۔
ترجمان نے وفاقی حکومت سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا:
"ہم وزیراعظم پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھیں اور ان کی بحالی میں بھرپور کردار ادا کریں۔”
ابھی بارشیں تھمی نہیں ہیں اور خدشہ ہے کہ مزید وادیاں بھی کٹ آف ہو سکتی ہیں یا نئے خطرات کی زد میں آ سکتی ہیں۔ گلگت بلتستان اس وقت ایک آزمائش سے گزر رہا ہے—لوگ غمزدہ ہیں، بے سروسامان ہیں اور اس امید پر ہیں کہ امداد جلد پہنچے، اس سے پہلے کہ مزید جانیں ضائع ہو جائیں۔