گلگت – 6 جولائی 2025
گلگت بلتستان کے دو اہم شہروں — چلاس اور بُنجی — نے جمعہ کے روز شدید گرمی کی ایسی شدت دیکھی جو ماضی کے تمام ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ گئی، اور ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی گھنٹی بجا دی۔
محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق، چلاس میں درجہ حرارت 48.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جو اس سے قبل 17 جولائی 1997 کو ریکارڈ کیے گئے 47.7 ڈگری سینٹی گریڈ کے تاریخی ریکارڈ سے زیادہ ہے۔ اسی روز بُنجی میں درجہ حرارت 46.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو جولائی 1971 میں بننے والے 45.6 ڈگری کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ گیا۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شمالی پہاڑی علاقوں میں ایسی شدید اور مسلسل گرمی محض موسمی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان ہے، جو برف اور گلیشیئر کے پگھلاؤ کو تیز کر سکتی ہے۔ اس سے اگلے چند دنوں میں گلیشیئر جھیل پھٹنے (GLOF) اور فلیش فلڈ جیسے مہلک واقعات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
محکمے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا:
"یہ معاملہ صرف دو یا تین ڈگری کا نہیں، بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بگاڑ کی نشاندہی کر رہا ہے جو ان علاقوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جہاں لوگ گلیشیئر سے جُڑے دریاؤں یا ندیوں کے قریب بستے ہیں۔”
گلگت بلتستان، جو اپنی دلکش وادیوں اور بلند و بالا برف پوش پہاڑوں کے لیے مشہور ہے، دنیا کے بڑے غیر قطبی گلیشیئرز کا بھی گھر ہے۔ ماہرین اس وقت شدید تشویش کا شکار ہیں کہ خطے کا قدرتی توازن تیزی سے متاثر ہو رہا ہے۔
انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں حالیہ برسوں میں گلیشیئر پھٹنے کے واقعات پیش آئے یا جھیلیں موجود ہیں۔ مقامی آبادی کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موسم اور پانی کی روانی پر نظر رکھیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، اور کسی بھی غیرمعمولی تبدیلی کی فوری اطلاع دیں۔
پاکستان کو درپیش موسمیاتی خطرات کے تناظر میں، گلگت بلتستان میں درجہ حرارت کا یہ نیا ریکارڈ ایک اور چونکا دینے والی یاد دہانی ہے کہ اب فوری اقدامات کی ضرورت ہے — نہ صرف پالیسی سطح پر، بلکہ مقامی تحفظات کو مدِنظر رکھتے ہوئے۔