اسلام آباد / پشاور – خیبرپختونخوا میں تباہ کن بارشوں اور سیلاب کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 323 تک جا پہنچی ہے، جب کہ 156 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کو تیز کرنے میں مصروف ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 273 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں۔ اب تک 336 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے 106 مکمل طور پر بہہ گئے۔ بونیر سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے جہاں 209 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، اس کے بعد سوات، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام متاثر ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 17 سے 19 اگست تک مزید شدید بارشوں کا امکان ہے، جبکہ موجودہ مون سون کا سلسلہ وقفے وقفے سے 21 اگست تک جاری رہے گا۔
وفاقی وزراء کی تعیناتی
وزیراعظم شہباز شریف نے متاثرہ اضلاع میں ریلیف آپریشنز کی براہ راست نگرانی کے لیے وفاقی وزراء کو تعینات کیا ہے۔ وزیر برائے کشمیر امور و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام کو شانگلہ اور بونیر کی نگرانی کا ذمہ دیا گیا ہے، وزیر مذہبی امور سردار یوسف مانسہرہ میں امدادی کام دیکھیں گے، جب کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی مبارک زیب باجوڑ میں سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ وفاقی ریلیف پیکج کے تحت فوری طور پر خوراک، خیمے اور ادویات بھجوائی جائیں۔ انہوں نے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو صوبائی حکومتوں اور گلگت بلتستان سے قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایت بھی دی۔
اس وقت تک درجنوں ٹرک متاثرہ اضلاع میں پہنچائے جا چکے ہیں جن میں خیمے، بستر، ترپال، کچن سیٹ، مچھر دانیاں، جنریٹر اور دیگر ضروری سامان شامل ہے۔
صوبائی حکومت کا معاوضے کا وعدہ
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے سوات اور بونیر سمیت متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ مالاکنڈ ڈویژن میں اجلاس کے دوران حکام نے انہیں بتایا کہ مینگورہ شہر بدترین متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔
وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت دی کہ ملبہ فوری صاف کیا جائے، اضافی مشینری قریبی اضلاع سے لائی جائے اور متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
انہوں نے کہا:
“صوبائی حکومت نے ریلیف اور بحالی کے لیے 3 ارب روپے جاری کر دیے ہیں۔ عوام کے نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائے گا۔ ماضی میں متاثرین کو صرف وعدوں پر ٹالا گیا، اس بار عملی اقدامات ہوں گے۔”
گنڈا پور نے سوات دریا کے کناروں کی نشاندہی اور حد بندی کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا بھی اعلان کیا تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچاؤ ہو سکے۔ انہوں نے سوات کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے مجوزہ منصوبے پر کہا کہ اس حوالے سے پہلے عوامی نمائندوں سے مشاورت ضروری ہے۔
این ڈی ایم اے اور فوج کی سرگرمیاں
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے مطابق خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے متاثرہ علاقوں میں رابطہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی اولین ترجیح ہے، جنہیں بارش تھمنے کے بعد فوری بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان والے اضلاع کو خوراک اور طبی سامان بھجوایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مون سون کی سرگرمیاں کم از کم 22 اگست تک جاری رہیں گی جبکہ 23 اگست کو ایک اور موسمی سسٹم ملک میں داخل ہوگا جو ستمبر کے اوائل تک برقرار رہ سکتا ہے۔
“اس وقت پاکستان پر تین بڑے موسمی نظام اثرانداز ہو رہے ہیں جو مون سون کی شدت میں اضافہ کر رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔
دوسری جانب پاک فوج نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ہدایت پر بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ فوجی ہیلی کاپٹر بونیر، شانگلہ اور سوات کے دور دراز دیہات میں آٹا، چاول، دالیں، خشک دودھ اور تیل سمیت اشیائے خورونوش پہنچا رہے ہیں۔ فوجی جوان خواتین، بچوں اور زخمیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔
فوجی ڈاکٹروں نے فیلڈ میڈیکل کیمپس قائم کر دیے ہیں جہاں متاثرین کو مفت علاج اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ انجینئرز دن رات کام کر کے جَر پل کی بحالی کر رہے ہیں جو دیر اور باجوڑ کو ملانے والا اہم راستہ تھا اور سیلاب میں بہہ گیا تھا۔ اس پل کا عارضی متبادل چند دنوں میں تیار کر لیا جائے گا۔
فوج کے ترجمان نے کہا:
“پاک فوج متاثرین کی مکمل بحالی تک عوامی خدمت کا مشن جاری رکھے گی۔”