4 اگست 2025 – خصوصی رپورٹ
ایک غیر معمولی فلکیاتی واقعہ پیش آنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، اور اگر ماہرین فلکیات کی پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں، تو زمین کے باسی آسمان پر چاند کے ٹکڑے گرتے دیکھ سکتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک دیو ہیکل شہاب ثاقب جس کا نام 2024 YR4 رکھا گیا ہے، ممکنہ طور پر چاند سے ٹکرا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو چاند کی سطح سے اٹھنے والا لاکھوں کلو وزنی ملبہ خلا میں بکھر جائے گا — اور اس کا کچھ حصہ زمین کی فضا میں داخل ہو سکتا ہے، جس سے ایک نایاب شہابی طوفان پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔
یہ شہاب ثاقب لگ بھگ 200 فٹ چوڑا ہے — جو کسی 15 منزلہ عمارت کے برابر ہے۔ دسمبر 2024 میں دریافت ہونے کے بعد ابتدائی اندازوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ 2032 میں زمین سے ٹکرا سکتا ہے، تاہم اب سائنسدانوں نے اس خطرے کو مسترد کر دیا ہے۔ البتہ، تازہ تحقیق نے چاند کو ممکنہ نشانے کے طور پر پیش کیا ہے۔
یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریو کے ماہرین کے مطابق اس بات کے تقریباً 4 فیصد امکانات ہیں کہ 2024 YR4 اگلے کچھ برسوں میں چاند سے ٹکرا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو اثر کی شدت 6.5 میگا ٹن ٹی این ٹی کے برابر ہوگی، جو کہ ایک دیوہیکل گڑھا بنانے کے لیے کافی ہے — اندازاً تقریباً 3200 فٹ چوڑا — اور ساتھ ہی 22 کروڑ پاؤنڈ چاندی مٹی اور پتھر خلا میں اچھالے جا سکتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ پال ویگرٹ کے مطابق، "اس ملبے کا تقریباً 10 فیصد حصہ زمین کی جانب بھی آ سکتا ہے، اور یہ منظر انسانی تاریخ کے سب سے دلکش شہابی مظاہروں میں شمار ہو سکتا ہے۔”
تاہم یہ شہابیوں کا طوفان روایتی طوفانوں جیسا نہیں ہوگا۔ چونکہ چاند سے آنے والے ذرات کی رفتار نسبتاً کم — یعنی 25,000 میل فی گھنٹہ ہوگی — لہٰذا یہ شہاب ثاقب آسمان پر مدھم، دیرپا اور تعداد میں کہیں زیادہ ہوں گے۔
ویگرٹ کا کہنا ہے، "تقریباً ہر نظر آنے والا شہاب چاند کا ہی کوئی ٹکڑا ہوگا۔"
یہ شہابی بارش ایک یا دو دن نہیں بلکہ کئی دنوں تک جاری رہ سکتی ہے، کیونکہ ملبہ بتدریج زمین کی بالائی فضا میں داخل ہوگا۔ اگر یہ شہاب ثاقب واقعی چاند سے ٹکرا گیا، تو وہ منظر زمین سے عام دوربین یا چھوٹے ٹیلی اسکوپ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
فلکیات دانوں کو 2028 میں اس سیارچے پر دوبارہ نظر ڈالنے کا موقع ملے گا، جب یہ سورج کے پیچھے سے نمودار ہوگا۔ تب تک، سائنسدان اس کی پرواز کی سمت اور رفتار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں — اس امید کے ساتھ کہ وہ ایک تاریخی اور حیرت انگیز آسمانی مظاہرے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔