اسلام آباد پاکستان کا پہلا مکمل کیش لیس شہر بننے کے قریب پہنچ گیا ہے، کیونکہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ پہلے یہ سہولت صرف ہفتہ وار بازاروں، میٹرو بسوں اور چند سرکاری مراکز تک محدود تھی، لیکن اب اسے ہوٹلز، ریسٹورنٹس، پیٹرول پمپس اور گیسٹ ہاؤسز تک بڑھا دیا گیا ہے۔
اس توسیع کے بعد شہری اپنے کھانے، ایندھن اور رہائش کی ادائیگی موبائل فون کے ذریعے کر سکیں گے، جس سے نقدی رکھنے کی ضرورت کم ہو جائے گی اور روزمرہ لین دین زیادہ محفوظ اور آسان ہوگا۔
شہر کے مختلف بینکوں نے بھی آگاہی مہمات شروع کر دی ہیں تاکہ لوگوں کو موبائل ایپس اور QR کوڈز کے ذریعے ادائیگی کے طریقے سکھائے جا سکیں۔ متعدد دکاندار اور کاروباری افراد بھی اس مہم کا حصہ بن رہے ہیں، اور کچھ جگہوں پر ڈیجیٹل ادائیگی کرنے والے صارفین کو چھوٹے ڈسکاؤنٹس یا بونس بھی دیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف عوام کو سہولت ملے گی بلکہ نقدی رکھنے کے خطرات بھی کم ہوں گے۔ دوسری جانب کاروباروں کے لیے بھی یہ نظام شفاف اور مؤثر ثابت ہوگا، کیونکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں سے حساب کتاب بہتر ہوتا ہے اور صارفین کا اعتماد بھی بڑھتا ہے۔
عوام کے لیے یہ تبدیلی تیز سروس، بہتر بجٹ مینجمنٹ اور زیادہ سہولت کا ذریعہ بنے گی، جبکہ کاروباروں کے لیے یہ محفوظ ٹرانزیکشنز اور بہتر ریکارڈ رکھنے میں مددگار ہوگی۔
اسلام آباد کا کیش لیس سمت میں یہ قدم عالمی رجحانات کے مطابق ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل معیشت اور جدید مالیاتی نظام کی طرف تیز رفتاری سے بڑھ رہا ہے۔ اگر منصوبہ کامیابی سے چلتا رہا تو ملک کا دارالحکومت جلد ہی دیگر شہروں کے لیے ایک مثالی ماڈل بن سکتا ہے۔