کوئٹہ میں غیرت کے نام پر قتل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حکومت متحرک، مرکزی ملزم گرفتار

کوئٹہ:
عیدالاضحیٰ کے قریب کوئٹہ کے علاقے ڈھاگری میں غیرت کے نام پر ایک جوڑے کے لرزہ خیز قتل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد حکام حرکت میں آگئے ہیں۔ اتوار کے روز پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند افراد ایک نوجوان خاتون اور مرد کو قتل کر رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ دونوں نے خاندان کی مرضی کے بغیر پسند کی شادی کی تھی، جس پر مقامی عمائدین نے ان کے قتل کا فیصلہ سنایا۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی ہدایت پر اس واقعے کا مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا، جس کے بعد لیویز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے ایک اہم ملزم کو حراست میں لے لیا۔

حکام کے مطابق مقدمہ حکومت بلوچستان کی مدعیت میں درج کیا گیا کیونکہ متاثرہ جوڑے کے اہل خانہ یا علاقے کے کسی فرد نے خود کوئی درخواست جمع نہیں کرائی۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولین کی شناخت احسان سمالانی اور بانو ستک زئی کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں عید سے کچھ روز قبل گاؤں بلایا گیا اور کھانے کی دعوت کے بہانے ڈھاگری کے ایک سنسان مقام پر لے جا کر عمائدین کا فیصلہ سنایا گیا۔

ویڈیو میں مقتولہ کو براہوی زبان میں قاتلوں سے کہتے سنا جا سکتا ہے:
“تمہیں صرف گولی مارنے کی اجازت ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔”
اس نے درخواست کی کہ اسے گولی مارنے سے پہلے سات قدم چلنے دیے جائیں۔ بعد ازاں اسے مبینہ طور پر اس کے بھائی نے تین گولیاں مار کر قتل کیا، جس کے بعد اس کے شوہر کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

تاحال دونوں کی لاشیں برآمد نہیں ہو سکی ہیں جس کے باعث تحقیقات میں مزید مشکلات درپیش ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو عید سے کچھ روز پہلے بنائی گئی تھی اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔ ان کی شناخت ہو چکی ہے تاہم ابھی تک عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی گئی۔

وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:
“ریاست اس طرح کی بربریت پر خاموش تماشائی نہیں بنے گی، انصاف ہر صورت ہوگا۔”

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے تصدیق کی کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت نادرا کے ڈیٹا اور فیشل ریکگنیشن سسٹم کے ذریعے کر لی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا:
“ایک ملزم پولیس کی حراست میں ہے اور باقیوں کی گرفتاری کے قریب ہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ مقدمے کی مدعیت ریاست نے خود لی ہے تاکہ انصاف یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کا بیرونی دباؤ تحقیقات پر اثرانداز نہ ہو۔

اس سفاکانہ قتل پر ہر سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے قاتلوں کو “درندے” قرار دیا اور کہا کہ ایسے افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

علاوہ ازیں، عورت فاؤنڈیشن بلوچستان کے ڈائریکٹر اور ای وی اے ڈبلیو جی الائنس کے چیئرمین علاء الدین خلجی نے بھی اس قتل کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا:
“یہ ویڈیو دل دہلا دینے والی ہے اور اس حقیقت کو پھر سے سامنے لاتی ہے کہ غیرت کے نام پر قتل بلوچستان میں اب بھی ایک سنگین حقیقت ہے۔ 2019 سے 2024 کے درمیان صرف بلوچستان میں 212 افراد غیرت کے نام پر قتل ہو چکے ہیں۔”

More From Author

کراچی: کالا پل کے قریب تیز رفتار واٹر ٹینکر کی ٹکر سے دو کم عمر کزن جاں بحق، مشتعل ہجوم نے ٹینکر کو آگ لگا دی

 چین نے دنیا کے سب سے بڑے پن بجلی ڈیم کی تعمیر شروع کر دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے