کراچی: صوبائی وزیرِ اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے حالیہ بارشوں پر سندھ حکومت کے ردِعمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے نالے مکمل طور پر صاف کیے گئے تھے اور بارش کا پانی نکاسی کے نظام کے ذریعے باہر نکل رہا تھا۔
میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی آج دنیا بھر کا موضوع ہے اور پاکستان بھی اس کے اثرات سے مستثنیٰ نہیں۔ چاروں صوبوں میں غیر معمولی بارشیں ہو رہی ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث 300 سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر انہوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ آنے والی حکومتوں کو موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے دیرپا پالیسیاں بنانا ہوں گی کیونکہ وقتی اقدامات اب کافی نہیں رہے۔ سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو عوام نے مسترد کر دیا جبکہ ایم کیو ایم نے اس لیے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا کہ انہیں معلوم تھا ایک بھی نشست نہیں ملے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کی پوری مشینری، وزیرِ اعلیٰ، میئر اور انتظامیہ بارش کے دوران سڑکوں پر موجود تھی۔ ان کا کہنا تھا:
“اگر کسی جگہ کمی رہ گئی ہے تو ہم اسے دور کریں گے، لیکن میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ شہر کے تمام نالے صاف تھے اور بارش کا پانی نکالا جا رہا تھا۔”
صوبائی وزیر نے اعتراف کیا کہ بارش کے دوران چند گھنٹے شہریوں کے لیے انتہائی پریشان کن اور تکلیف دہ ثابت ہوئے اور سڑکوں کی حالت بگڑ گئی۔ “اب سب سے بڑا چیلنج بارش کے بعد سڑکوں کی مرمت اور تعمیر نو ہے،” انہوں نے کہا۔ مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ٹاؤن کی انتظامیہ نے اپنے اپنے علاقوں میں کام کیا ہے اور وہ کسی پر الزام تراشی نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق یہ وقت الزام دینے کا نہیں بلکہ آگے بڑھنے کا ہے۔ “ہمیں ایک طویل المدتی حکمتِ عملی بنانی ہوگی کیونکہ اب بارشیں معمول کے مطابق نہیں رہیں