کراچی کے فریئر ہال سے دوسری جنگ عظیم کی تاریخی شیلڈز چوری

کراچی:
کراچی کے تاریخی ورثے کی علامت، فریئر ہال سے دوسری جنگ عظیم کی قیمتی یادگار شیلڈز چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ واقعہ رواں ماہ سامنے آیا جس کے بعد شہر میں محفوظ تاریخی نوادرات کی سکیورٹی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

یہ واقعہ 7 جولائی کو اس وقت سامنے آیا جب عاشورہ کی تعطیلات کے بعد فریئر ہال دوبارہ کھولا گیا۔ عملے نے سب سے پہلے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ڈائریکٹر جنرل کے دفتر کی کھڑکی ٹوٹی ہوئی دیکھی۔ جب سامان کی جانچ پڑتال کی گئی تو معلوم ہوا کہ پانچ یادگاری شیلڈز، ایک ڈی وی ڈی پلیئر، اسپیکر اور تانبے کی قیمتی تاریں غائب ہیں۔

پولیس کو دی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں ایک شخص کو مرکزی ملزم کے طور پر شناخت کرلیا گیا ہے جبکہ اس سامان کے نگران کنٹریکٹر سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

اس کیس کی نگرانی کرنے والے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سید اسد رضا نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ چوری شدہ شیلڈز کی برآمدگی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ملزم کی گرفتاری اور نوادرات کی واپسی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ہمیں جلد بڑی پیش رفت کی امید ہے۔‘‘ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور شہر کی کباڑی مارکیٹس کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ کسی سراغ تک پہنچا جا سکے۔

اگرچہ یہ واردات تشویش ناک ہے لیکن یہ اچانک نہیں ہوئی۔ مقامی حکام پہلے ہی کے ایم سی کو خبردار کر چکے تھے کہ فریئر ہال میں سکیورٹی کی کمی کے باعث چوری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق حکام کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ ’’یہ پارک جو کبھی پرسکون تفریح کی جگہ تھا، اب غیر قانونی سرگرمیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں بے ترتیبی سے پارکنگ اور چوری کی وارداتیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔‘‘

گزشتہ واقعات
یہ پہلا موقع نہیں جب فریئر ہال میں اس نوعیت کی چوری ہوئی ہو۔ 2017 میں معروف سندھی آرٹسٹ سیفی سومرو کی پینٹنگز یہاں سے اس وقت غائب ہوگئیں جب ان کی نمائش ہو رہی تھی۔ سومرو کو یہ پینٹنگز گزشتہ سال اس وقت واپس ملیں جب انہوں نے انہیں مشہور ڈرامہ کبھی میں کبھی تم میں بطور سیٹ دیکھا۔

فریئر ہال – ایک تاریخی جائزہ
1865 میں برطانوی راج کے دور میں تعمیر ہونے والا فریئر ہال دراصل شہر کا ٹاؤن ہال تھا جسے آرکیٹیکٹ ہنری سینٹ کلیر ولکنز نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس کا نام برطانوی انتظامیہ کے نمایاں عہدیدار سر ہنری بارٹل ایڈورڈ فریئر کے نام پر رکھا گیا۔ آج فریئر ہال نہ صرف کراچی کے نوآبادیاتی ماضی کی علامت ہے بلکہ یہاں لیاقت نیشنل لائبریری بھی قائم ہے جبکہ یہ آرٹ نمائشوں، ادبی و ثقافتی تقریبات اور عوامی اجتماعات کی میزبانی بھی کرتا ہے۔

اپنی تاریخی اہمیت کے باوجود حالیہ واقعات نے ایک بار پھر اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ کراچی کی تاریخی عمارتوں اور نوادرات کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، قبل اس کے کہ مزید قیمتی ورثہ ضائع ہو جائے۔

More From Author

ڈیٹا لیک کے بعد ہزاروں افغان شہریوں کو برطانیہ میں پناہ مل گئی

جعلی رائیڈرز کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ روکنے کیلئے کراچی پولیس اور ڈیلیوری کمپنیوں کا مشترکہ لائحہ عمل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے