کراچی کسی بڑے زلزلے سے نمٹنے کے لیے خطرناک حد تک غیر تیار، ماہرین خبردار

بروقت وارننگ سسٹم اور ایمرجنسی مشقوں کی عدم موجودگی شہریوں کی زندگیاں اور 50 ارب ڈالر مالیت کےکراچی کسی بڑے زلزلے سے نمٹنے کے لیے خطرناک حد تک غیر تیار، ماہرین خبردار

بروقت وارننگ سسٹم اور ایمرجنسی مشقوں کی عدم موجودگی شہریوں کی زندگیاں اور 50 ارب ڈالر مالیت کے انفرااسٹرکچر کو خطرے میں ڈال سکتی ہے

کراچی – 7 اگست 2025:
پاکستان کا معاشی حب، کراچی، جو دو کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ایک میگا سٹی ہے، شدید زلزلے کے خطرے سے دوچار ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے تیاری نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہ انکشاف بدھ کو کراچی یونیورسٹی میں منعقد ایک اہم سیمینار کے دوران سامنے آیا جس کا عنوان تھا: "حالیہ زلزلے، اسباب، اثرات اور تدارک”۔ اس تقریب کا انعقاد جامعہ کراچی کے شعبہ ارضیات اور "سوسائٹی آف اکنامک جیالوجسٹس اینڈ منرل ٹیکنالوجسٹس” (SEGMITE) نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف میٹرولوجسٹ عامر حیدر لغاری نے بتایا کہ کراچی تین بڑی ٹیکٹونک پلیٹس — عربی، ہندوستانی اور یوریشین — کے سنگم پر واقع ہے، جس کے باعث یہ شہر شدید زلزلوں کی زد میں ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 1945 کے مکران سونامی میں کراچی بھی متاثر ہوا تھا اور 4,000 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ "اس تاریخی سانحے کے باوجود آج تک کوئی خاطر خواہ تیاری نہیں کی گئی”، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ حالیہ دنوں میں کراچی کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں 1.5 سے 3.8 شدت کے 60 سے زائد معمولی جھٹکے محسوس کیے گئے، جو بظاہر معمولی ہیں لیکن ان کے پیچھے گہرا زمینی دباؤ چھپا ہو سکتا ہے۔
سابق سی ای او، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، معین رضا خان نے وضاحت کی کہ یہ جھٹکے "فالٹ کریپ” اور زیرِ زمین پانی کے دباؤ کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ "یہ زلزلے وقتی طور پر دباؤ کم ضرور کرتے ہیں، لیکن اصل خطرے کی گھنٹی بھی ہیں۔”

انہوں نے بتایا کہ شہر کو لاندھی فالٹ لائن پر شدت 5 اور مکران سبڈکشن زون سے شدت 8 تک کا زلزلہ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو تقریباً 50 ارب ڈالر کا انفرااسٹرکچر خطرے میں پڑ جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بے ہنگم اربنائزیشن، زیرِ زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال، نرم سمندری زمین پر غیر منصوبہ بند تعمیرات اور معدنیات کی غیر قانونی کان کنی، سب مل کر زمین کو کمزور کر رہے ہیں۔

معروف جیوتکنیکی انجینئر، حسن ایس. اختر نے زلزلہ مزاحم تعمیرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "پولی پروپلین فائبر” جیسی کم خرچ ٹیکنالوجی استعمال کی جائے تو عمارتیں زلزلے میں زیادہ مضبوط ثابت ہو سکتی ہیں۔ "ہمیں نئی تعمیرات کے ساتھ ساتھ پرانی عمارتوں کو بھی مضبوط کرنا ہوگا، ورنہ نتائج خطرناک ہوں گے،” انہوں نے کہا۔

تقریب میں ماہرین نے جاپان کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں سخت بلڈنگ کوڈز اور جدید تعمیراتی طریقے اپنائے گئے، جس سے زلزلوں کے نقصانات کو کم کیا گیا ہے۔
"لیکن کراچی میں بلڈنگ کوڈز پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ غفلت ہمیں بہت مہنگی پڑ سکتی ہے،” ایک مقرر نے کہا۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا: "مسئلے کی نشاندہی کافی نہیں، اب وقت ہے کہ پالیسی سازی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ عوامی آگاہی، ہنگامی مشقیں، اور بلڈنگ کوڈز پر سختی سے عملدرآمد لازم ہے۔”

سیمینار سے سینئر جیو فزسسٹ ریاض حسین راجپر اور پروفیسر وقار حسین نے بھی خطاب کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ کراچی کے لیے بروقت وارننگ سسٹمز اور ہنگامی ردعمل کے جامع منصوبے تیار کرے۔ جیسا کہ ایک ماہر نے اختتام پر کہا:
انفرااسٹرکچر کو خطرے میں ڈال سکتی ہے

کراچی – 7 اگست 2025:
پاکستان کا معاشی حب، کراچی، جو دو کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ایک میگا سٹی ہے، شدید زلزلے کے خطرے سے دوچار ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے تیاری نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہ انکشاف بدھ کو کراچی یونیورسٹی میں منعقد ایک اہم سیمینار کے دوران سامنے آیا جس کا عنوان تھا: "حالیہ زلزلے، اسباب، اثرات اور تدارک”۔ اس تقریب کا انعقاد جامعہ کراچی کے شعبہ ارضیات اور "سوسائٹی آف اکنامک جیالوجسٹس اینڈ منرل ٹیکنالوجسٹس” (SEGMITE) نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف میٹرولوجسٹ عامر حیدر لغاری نے بتایا کہ کراچی تین بڑی ٹیکٹونک پلیٹس — عربی، ہندوستانی اور یوریشین — کے سنگم پر واقع ہے، جس کے باعث یہ شہر شدید زلزلوں کی زد میں ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 1945 کے مکران سونامی میں کراچی بھی متاثر ہوا تھا اور 4,000 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ "اس تاریخی سانحے کے باوجود آج تک کوئی خاطر خواہ تیاری نہیں کی گئی”، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ حالیہ دنوں میں کراچی کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں 1.5 سے 3.8 شدت کے 60 سے زائد معمولی جھٹکے محسوس کیے گئے، جو بظاہر معمولی ہیں لیکن ان کے پیچھے گہرا زمینی دباؤ چھپا ہو سکتا ہے۔
سابق سی ای او، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، معین رضا خان نے وضاحت کی کہ یہ جھٹکے "فالٹ کریپ” اور زیرِ زمین پانی کے دباؤ کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ "یہ زلزلے وقتی طور پر دباؤ کم ضرور کرتے ہیں، لیکن اصل خطرے کی گھنٹی بھی ہیں۔”

انہوں نے بتایا کہ شہر کو لاندھی فالٹ لائن پر شدت 5 اور مکران سبڈکشن زون سے شدت 8 تک کا زلزلہ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو تقریباً 50 ارب ڈالر کا انفرااسٹرکچر خطرے میں پڑ جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بے ہنگم اربنائزیشن، زیرِ زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال، نرم سمندری زمین پر غیر منصوبہ بند تعمیرات اور معدنیات کی غیر قانونی کان کنی، سب مل کر زمین کو کمزور کر رہے ہیں۔

معروف جیوتکنیکی انجینئر، حسن ایس. اختر نے زلزلہ مزاحم تعمیرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "پولی پروپلین فائبر” جیسی کم خرچ ٹیکنالوجی استعمال کی جائے تو عمارتیں زلزلے میں زیادہ مضبوط ثابت ہو سکتی ہیں۔ "ہمیں نئی تعمیرات کے ساتھ ساتھ پرانی عمارتوں کو بھی مضبوط کرنا ہوگا، ورنہ نتائج خطرناک ہوں گے،” انہوں نے کہا۔

تقریب میں ماہرین نے جاپان کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں سخت بلڈنگ کوڈز اور جدید تعمیراتی طریقے اپنائے گئے، جس سے زلزلوں کے نقصانات کو کم کیا گیا ہے۔
"لیکن کراچی میں بلڈنگ کوڈز پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ غفلت ہمیں بہت مہنگی پڑ سکتی ہے،” ایک مقرر نے کہا۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا: "مسئلے کی نشاندہی کافی نہیں، اب وقت ہے کہ پالیسی سازی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ عوامی آگاہی، ہنگامی مشقیں، اور بلڈنگ کوڈز پر سختی سے عملدرآمد لازم ہے۔”

سیمینار سے سینئر جیو فزسسٹ ریاض حسین راجپر اور پروفیسر وقار حسین نے بھی خطاب کیا اور حکومت پر زور دیا کہ وہ کراچی کے لیے بروقت وارننگ سسٹمز اور ہنگامی ردعمل کے جامع منصوبے تیار کرے۔ جیسا کہ ایک ماہر نے اختتام پر کہا:

More From Author

سوات میں زمرد کی کان بیٹھنے کا واقعہ — پاک فوج نے پھنسے ہوئے چار مزدوروں کو بحفاظت نکال لیا

 روپیہ مسلسل دسویں دن بھی مضبوط، حکومت نے 6.2 کھرب روپے کے گھریلو قرضے کا ہدف مقرر کر لیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے