واقعے کے بعد اسٹیل ٹاؤن پولیس نے خون میں لت پت ڈرائیور کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ زخمی شخص نے گفتگو میں شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "غریب کو عزت سے جینے کا حق بھی نہیں رہا۔”
اس نے بتایا کہ وہ روزانہ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے ایمانداری سے کام کرتا ہے، لیکن ہر روز اسے بغیر کسی وجہ کے بھاری چالان دے دیے جاتے ہیں۔ "روزانہ 5000، 10000 روپے کا چالان کر دیتے ہیں، ہم آخر کیسے گزارا کریں؟”
اس کا کہنا تھا کہ چالان ہی نہیں، پولیس اکثر رکشے بھی بند کر دیتی ہے، جس سے روزگار کا واحد ذریعہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔
واقعے کے بعد مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں نے ٹریفک پولیس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور انہیں رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ ناروا سلوک اور ہراسانی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔