فیصل آباد: وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے اعلان کیا ہے کہ کراچی کا نیا اپ گریڈ اور جدید سہولیات سے آراستہ ریلوے اسٹیشن 10 ستمبر کو باقاعدہ طور پر افتتاح کے بعد عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔
فیصل آباد ریلوے اسٹیشن کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ یہ منصوبہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ویژن کا حصہ ہے، جس کے تحت پاکستان ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ملک بھر میں قلیل اور طویل المدتی منصوبے جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ریلوے کا ٹکٹنگ نظام مکمل طور پر ڈیجیٹلائز ہو چکا ہے، ٹرین ٹریکنگ سسٹم فعال ہے، بڑے اسٹیشنز پر اے ٹی ایم مشینیں نصب کر دی گئی ہیں اور صوبائی حکومت کے تعاون سے پنجاب کے 40 ریلوے اسٹیشنز پر مفت وائی فائی سروس فراہم کی جائے گی۔
وزیر ریلوے نے مزید بتایا کہ 30 ستمبر تک متعدد خدمات آؤٹ سورس کی جا رہی ہیں جن میں 9 سے 11 مسافر اور مال بردار ٹرینیں، گیسٹ ہاؤسز، خصوصی سیلون، اسپتال، اسکول اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سروس کے معیار میں بہتری اور آمدنی میں اضافہ ہے۔
حنیف عباسی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ خصوصی سیلون، جو ماضی میں صرف اعلیٰ حکام کے لیے مخصوص تھے، اب عام عوام کو بھی مناسب کرایے پر دستیاب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے اسٹیشنز کی صفائی کے انتظامات سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے سپرد کر دیے گئے ہیں جبکہ مسافروں کو معیاری کھانا فراہم کرنے کے لیے صوبائی فوڈ اتھارٹیز کو براہِ راست نگرانی کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
انفراسٹرکچر میں جاری سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے آٹھ اہم ریلوے روٹس کی اپ گریڈیشن کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور اور راولپنڈی کے درمیان نئی ڈبل ٹریک لائن اور جدید سگنلنگ سسٹم کے لیے 250 ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے، جس سے دونوں شہروں کے درمیان سفر کا دورانیہ دو گھنٹے سے ذرا زیادہ رہ جائے گا۔
دیگر منصوبوں میں شاہدرہ سے رائیونڈ تک لینیئر پارک کی تعمیر، کراچی، لاہور، راولپنڈی اور ٹیکسلا اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن، اور بلوچستان میں شیخ زید سے کوچلاک تک ٹریک کی بہتری شامل ہے۔ سندھ حکومت کے تعاون سے روہڑی اسٹیشن کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
حنیف عباسی نے کہا، "کراچی اسٹیشن کا منصوبہ پاکستان ریلوے کی تبدیلی میں ایک اہم سنگِ میل ہے اور اس کا 10 ستمبر کو افتتاح ایک نئے دور کی شروعات ہوگا۔”