کراچی — شہر کے پوش علاقے ڈیفنس میں ایک 18 سالہ نئی شادی شدہ لڑکی کی لاش رہائشی عمارت کی چھت سے برآمد ہونے کے بعد پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق لڑکی، جس کی شناخت زینب کے نام سے ہوئی ہے، شادی کے بعد تقریباً ایک ماہ قبل سیالکوٹ سے کراچی آئی تھی اور ڈیفنس فیز 5 کے بدر کمرشل میں اپنے شوہر کی خالہ کے گھر مقیم تھی۔ اسی عمارت کی چھت سے اس کی لاش مشکوک حالات میں ملی۔
زینب کے والد عبدالجبار نے واقعے کی رپورٹ درخشاں تھانے میں درج کرائی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی عارضی طور پر شوہر کے رشتہ داروں کے گھر رہ رہی تھی۔ گھر والوں کے مطابق وہ شام کے وقت چھت پر گئی اور کافی دیر تک واپس نہ آئی۔ بعد ازاں انہیں بتایا گیا کہ زینب بے ہوش حالت میں ملی اور اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹرز نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔
عبدالجبار نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر گلا دبا کر قتل کیا گیا ہے، اسی لیے انہوں نے قانونی کارروائی کی درخواست کی۔
ایس ایس پی ساؤتھ محظور علی کے مطابق پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور لڑکی کے شوہر کی خالہ اور کزن کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں، جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ مزید افراد کو بھی شاملِ تفتیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق خالہ کا بیٹا عبدالہادی بھی پولیس کی حراست میں ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیّہ نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ موت گلا دبانے کے باعث واقع ہوئی۔ مزید شواہد کے لیے لاش کے نمونے کیمیکل اور ڈی این اے تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔
چند ماہ قبل اسی علاقے کے فیز 6 میں ماڈل حمیرہ اصغر کی پراسرار موت کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا، جس کے بعد ڈیفنس میں خواتین کی مشکوک ہلاکتوں کے حوالے سے شہریوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔