سماجی شمولیت اور بااختیاری کے جذبے کے تحت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جمعے کے روز خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیموں میں 40 کروڑ روپے کی مالی امداد تقسیم کی۔ یہ تقریب چیف منسٹر ہاؤس میں ڈپارٹمنٹ آف ایمپاورمنٹ آف پرسنز وِد ڈس ایبلیٹیز (DEPD) کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔
تقریب میں 56 پارٹنر اداروں کو امدادی چیکس دیے گئے، جن کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ رقوم پہلے ہی مستحقین کے اکاؤنٹس میں منتقل کی جاچکی ہیں۔ مراد علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کا مقصد "ایک مساوی، بااختیار اور سب کو شامل کرنے والا معاشرہ قائم کرنا ہے۔”
بجٹ میں اضافہ اور نئی سہولیات
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ اگلے مالی سال کے لیے DEPD کا بجٹ 80 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 20 نئے بحالی مراکز غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کے تعاون سے قائم کیے جاچکے ہیں جبکہ 15 موجودہ مراکز کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ 66 مراکز میں ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے تاکہ خصوصی افراد کو پک اینڈ ڈراپ سروس دی جا سکے۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ 12 کمپری ہینسو ری ہیبلیٹیشن سینٹرز (CRTs) اس سال کے آخر تک فعال ہو جائیں گے، جن میں سے ہر ضلع میں ایک مرکز قائم کیا جائے گا۔
انکلوسیو تعلیم اور سرکاری عمارات کی رسائی
وزیراعلیٰ نے کہا کہ معذور بچوں کو نارمل اسکولوں میں داخل کرنے کے لیے ایک خصوصی ڈائریکٹوریٹ اور نصاب تیار کیا گیا ہے، تاکہ معاشرتی رویوں میں تبدیلی لائی جا سکے اور انہیں یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔
مراد علی شاہ نے وہیل چیئرز، مصنوعی اعضا اور کمیونیکیشن ڈیوائسز کو “خودمختاری اور وقار کی علامت” قرار دیا، اور تمام سرکاری عمارات میں وہیل چیئر ریمپس کی تنصیب کو لازمی قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کو مکمل طور پر رسائی کے قابل بنا دیا گیا ہے۔
ایک جذباتی لمحہ
تقریب کے اختتام پر خصوصی بچوں نے پاکستان آرمی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک خوبصورت ٹیبلو پیش کیا، جس پر شرکاء نے بھرپور داد دی۔ بچوں نے وزیراعلیٰ کو اپنی بنائی ہوئی پینٹنگز بھی پیش کیں، جو ان کی صلاحیت اور حوصلے کی عکاس تھیں۔
یہ تقریب نہ صرف حکومت کی جانب سے معذور افراد کے لیے کیے گئے عملی اقدامات کی مظہر تھی بلکہ ایک پیغام بھی تھی — کہ جسمانی کمزوری، انسانی قابلیت اور عزم کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔