کراچی:
جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی نے 3 ہزار 256 ارب روپے ٹیکس کی صورت میں قومی خزانے میں جمع کرایا، لیکن بدلے میں شہر کو کچھ نہیں ملا۔
اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر نے کہا کہ حالیہ بارشوں نے کراچی کو 10 ارب روپے کے نقصان سے دوچار کیا، شہری شدید مشکلات میں ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور شہر کی حالت انتہائی خراب ہے۔ اس بگاڑ کی ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومتوں دونوں پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کراچی کے لیے 1100 ارب روپے کا ترقیاتی منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن آج تک اس پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو سندھ پر حکمرانی کرتے ہوئے 18 سال ہو گئے ہیں جبکہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) بھی 14 سال اقتدار میں رہی، مگر دونوں جماعتوں نے شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
منعم ظفر نے الزام لگایا کہ "پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم صرف اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں، لیکن کراچی کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ نالوں کی صفائی کے لیے مختص 60 کروڑ روپے بھی ہڑپ کر لیے گئے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے ٹاؤنز کو ایک پیسہ نہیں دیا اور مقامی سطح پر اختیارات بھی نہیں دیے جا رہے۔ سابق میئر مصطفیٰ کمال کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ سوال اٹھاتے ہیں انہیں چائنا کٹنگ کے الزامات میں قربان کر دیا جاتا ہے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "انہیں رقص کے لیے تو وقت مل جاتا ہے لیکن عوامی مسائل پر توجہ دینے کی فرصت نہیں۔” انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کے پاس 85 یوسیز کا مینڈیٹ موجود ہے لیکن شہر پر ایک "جعلی میئر” مسلط کر دیا گیا ہے۔ منعم ظفر کا کہنا تھا کہ "بارشوں کے دوران سندھ حکومت کا کوئی عملہ شہر میں نظر نہیں آیا