کراچی:
شہر قائد گزشتہ رات بھرپور بارشوں کی لپیٹ میں رہا، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیرآب آگئے، مرکزی شاہراہیں پانی میں ڈوب گئیں اور ملیر و لیاری ندیوں میں طغیانی کا خطرہ بڑھ گیا۔
سب سے زیادہ بارش سرجانی ٹاؤن میں
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ 129.8 ملی میٹر بارش سرجانی ٹاؤن میں ریکارڈ کی گئی۔ دیگر علاقوں میں بھی بھاری بارش ہوئی، جن میں گلشنِ معمار (93.1 ملی میٹر)، ڈی ایچ اے فیز سیون (90 ملی میٹر) اور نارتھ کراچی (72.2 ملی میٹر) شامل ہیں۔
گھرشنِ حدید (69 ملی میٹر)، ناظم آباد (54 ملی میٹر)، کورنگی (55 ملی میٹر)، سعیدی ٹاؤن (55.1 ملی میٹر)، کیماڑی (52.2 ملی میٹر) اور جناح ٹرمینل (53 ملی میٹر) میں بھی نمایاں بارش ریکارڈ ہوئی۔
تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان
بارشوں اور ممکنہ صورتحال کے پیشِ نظر کمشنر کراچی نے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
تھاڈو ڈیم سے پانی اُمڈ آیا، عوام میں خوف و ہراس
سب سے تشویشناک صورتحال گڈاپ ٹاؤن میں سامنے آئی جہاں تھاڈو ڈیم کے لبریز ہونے سے پانی بہہ کر موٹروے ایم-9 پر آگیا۔ تیز دھار میں ایک رکشہ اور وین بہہ گئے، جس پر ریسکیو 1122 اور ایدھی میرین سروسز کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے موٹروے کے مرکزی بیریئر کا ایک حصہ توڑنے کا حکم دیا تاکہ پانی کا راستہ بنایا جا سکے اور ٹریفک بحال ہوسکے۔ اس موقع پر ایم این اے جام کریم اور ایم پی اے سلیم بلوچ بھی موجود رہے۔
گھروں میں پانی داخل، شہری نقل مکانی پر مجبور
ملیر، کھمیسو گوٹھ، سہراب گوٹھ، مچھر کالونی اور نارتھ کراچی کے کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ متعدد خاندان خوف کے عالم میں رات بھر جاگتے رہے جبکہ کئی افراد کو اپنے طور پر محفوظ مقامات کی طرف نکلنا پڑا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سیلابی ریلے میں تین خواتین لاپتہ ہوگئیں جن کی تلاش جاری ہے۔
ٹریفک کی روانی متاثر، متبادل راستے مقرر
ایم-9 ڈوب جانے کے بعد ٹریفک پولیس نے متبادل راستوں کا اعلان کیا۔ حیدرآباد سے کراچی آنے والی ٹریفک کو ماڈل روڈ کی طرف موڑ دیا گیا جبکہ کراچی سے حیدرآباد جانے والی گاڑیوں کو سبزی منڈی کٹ کے ذریعے واپس شہر کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔
بجلی کی فراہمی اور کرنٹ لگنے کے واقعات
بارشوں کے باوجود کے الیکٹرک کا ترسیلی نظام بڑی حد تک قائم رہا اور 2100 فیڈرز میں سے 1975 کے ذریعے بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ تاہم نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے باعث مرمتی کام میں مشکلات درپیش ہیں۔
متعدد علاقوں میں بجلی بحال کردی گئی ہے، جن میں سرجانی ٹاؤن، شاہ فیصل کالونی، کورنگی، گلستانِ جوہر اور شاہ لطیف ٹاؤن شامل ہیں، تاہم کچھ مقامات پر اب بھی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔
بدقسمتی سے تین افراد کرنٹ لگنے کے باعث جاں بحق ہوگئے۔ یہ واقعات ایوب گوٹھ، خواجہ اجمیر نگری اور شاہ فیصل کالونی میں پیش آئے۔ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق یہ حادثات زیادہ تر گھریلو وائرنگ یا بجلی چوری کے باعث ہوئے اور کمپنی کے انفراسٹرکچر سے متعلق نہیں تھے۔
فوج اور رینجرز میدان میں
رات بھر جاری ریسکیو آپریشن میں پاک فوج اور رینجرز بھی سول انتظامیہ کے ساتھ متحرک رہے۔ سیکڑوں افراد کو سعیدی ٹاؤن، موٹروے ایم-9 اور دیگر علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اب تک 350 سے زائد افراد کو کامیابی کے ساتھ نکالا گیا۔ سعیدی ٹاؤن میں 10 افراد کو پاک فوج اور ریسکیو اہلکاروں نے مشترکہ آپریشن کے دوران بچایا۔ ضلع کیماڑی میں بھی اسسٹنٹ کمشنر مادیہا ناریجو کی نگرانی میں 100 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
ایک اور واقعے میں، گلشنِ اقبال میں امتیاز سپر اسٹور کے قریب لیاری ندی میں بہہ جانے والے دو افراد کو ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹے کی جدوجہد کے بعد بحفاظت نکال لیا۔