کراچی – 19 اگست:
منگل کی صبح ہونے والی وقفے وقفے سے بارش نے کراچی کے بیشتر علاقے پانی میں ڈبو دیے، جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اور ایک بار پھر شہر کے کمزور انفراسٹرکچر کی قلعی کھل گئی۔ گرمی سے ستائے شہریوں نے بارش کو تو سراہا لیکن سڑکوں پر جمع پانی نے ان کے روزمرہ معمولات کو بری طرح متاثر کیا۔
سب سے زیادہ بارش کیماڑی میں ریکارڈ کی گئی، جہاں 29 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ ناظم آباد میں 28 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ماڈل کالونی، سرجانی ٹاؤن، کورنگی، شاہ فیصل کالونی، آئی آئی چندریگر روڈ اور شارع فیصل سمیت کئی علاقوں میں بھی خاصی بارش ہوئی۔
گلستانِ جوہر کے ایک رہائشی نے شکایت کرتے ہوئے کہا: “ذرا سی بارش ہوئی اور میرے گھر کے باہر کی سڑک دریا بن گئی۔ دفتر جانا ممکن ہی نہیں رہا۔” ان کا شکوہ شہر کے ان ہزاروں لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جو پانی میں ڈوبی سڑکوں اور بدترین ٹریفک جام کا شکار رہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گلشنِ حدید میں 15 ملی میٹر، اورنگی ٹاؤن میں 12.2 ملی میٹر، پرانے شہر کے علاقے میں 10.8 ملی میٹر اور شارع فیصل پر 8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ یونیورسٹی روڈ، سپر ہائی وے، سعدی ٹاؤن اور گلشنِ معمار میں بھی ہلکی بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ کراچی میں 23 اگست تک وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا جبکہ اندرونِ سندھ کے شہروں حیدرآباد، جیکب آباد، لاڑکانہ، میرپور خاص اور تھرپارکر میں بھی معتدل سے تیز بارش کا امکان ہے۔
تاہم شہریوں کے لیے فوری مسئلہ سڑکوں کی بگڑتی حالت ہے۔ نارتھ ناظم آباد کے علاقے لیاقت آباد کے قریب لینڈی کوتل چورنگی کا ایک حصہ دھنس گیا، جس سے ٹریفک مکمل طور پر معطل ہوگئی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مرمتی کام اب تک شروع نہیں کیا گیا، جس کے باعث ٹریفک پولیس کو گاڑیاں متبادل راستوں پر موڑنا پڑی۔
بارش کے بعد کئی علاقوں میں بجلی بھی معطل ہوگئی۔ کے الیکٹرک کے مطابق شہر کے 2,100 فیڈرز میں سے 1,770 سے زائد فعال رہے، تاہم نشیبی اور حساس علاقوں میں احتیاطی طور پر بجلی بند کی گئی۔ ترجمان کے مطابق عملہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فیلڈ میں موجود ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک روز قبل ہی بارش کے خدشے کے پیش نظر ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا اور تمام اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی تھی۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اجلاس میں بتایا کہ شہر کے 44 اہم مقامات پر برساتی نالوں کی صفائی جاری ہے تاکہ نکاسی آب بہتر ہو سکے، مگر منگل کی بارش نے واضح کردیا کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں۔
کراچی کا بحران دراصل پورے ملک میں جاری مون سون ایمرجنسی کا حصہ ہے۔ بارشوں اور متعلقہ حادثات کے نتیجے میں ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 660 تک جا پہنچی ہے۔ سب سے زیادہ اموات خیبر پختونخوا میں 392 ہوئیں، پنجاب میں 164، گلگت بلتستان میں 32، سندھ میں 29، بلوچستان میں 20، آزاد کشمیر میں 15 اور اسلام آباد میں 8 افراد جاں بحق ہوئے۔ مختلف حادثات میں 935 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ کراچی کے شہریوں کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ آیا برساتی نالوں کی برسوں سے بند نکاسی اور ناقص نظام آئندہ دنوں میں متوقع بارشوں کا بوجھ برداشت بھی کر سکے گا یا نہیں