کراچی:
شہر بھر میں آئرن راڈز، پلوں کی گرلیں، کھمبے اور دیگر دھات کی اشیاء چوری ہونے کی عوامی شکایات پر ردعمل دیتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے سڑکوں، فٹ پاتھوں اور عوامی مقامات پر مقیم منشیات کے عادی افراد کے خلاف جامع کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے۔
کے ایم سی کے ترجمان دانیال سیال کے مطابق، میئر کی ہدایت پر شہر کے تمام اضلاع میں سٹی وارڈنز کی ٹیمیں کارروائی کر رہی ہیں تاکہ ان افراد کو عوامی مقامات سے ہٹا کر پہلے سٹی وارڈنز ہیڈکوارٹر اور پھر بحالی مراکز منتقل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل مکمل انسانیت کے ساتھ اور منظم طریقے سے کیا جا رہا ہے تاکہ یہ لوگ دوبارہ انہی مقامات پر نہ آئیں۔
مرتضیٰ وہاب کی زیرصدارت ہونے والے مختلف اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں بھی اس مسئلے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے، خاص طور پر سرکاری انفراسٹرکچر کی چوری اور نقصان پر۔ کے ایم سی نے بڑے پیمانے پر بحالی مراکز کے قیام کیلئے زمین مختص کر دی ہے تاکہ اس مسئلے کا دیرپا حل نکالا جا سکے۔ میئر نے اس منصوبے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
دانیال سیال کا کہنا تھا کہ “یہ لوگ چند روپے کمانے کیلئے شہر کے اہم اثاثے چرا رہے ہیں اور کراچی کے سماجی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں سے شہر کی خوبصورتی، سلامتی اور عوامی املاک خطرے میں ہیں۔”
ادھر مبینہ ٹاؤن پولیس نے یونیورسٹی روڈ اور اطراف کے علاقوں میں منشیات کے عادی افراد کی موجودگی کی اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے 13 افراد کو حراست میں لے لیا۔ ایس ایچ او چوہدری نواز کے مطابق گرفتار افراد کو علاج اور بحالی کیلئے بحالی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے۔ کے ایم سی حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے عوامی مقامات پر نظم و ضبط کی بحالی، سرکاری اثاثوں کے تحفظ اور متاثرہ افراد کی معاشرتی بحالی کیلئے یہ کوششیں جاری رہیں گی