بیجنگ:
چین نے بین الاقوامی سیاحت اور تجارتی روابط کو فروغ دینے کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 74 ممالک کے شہریوں کو بغیر ویزا کے چین میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ اس پالیسی کے تحت مسافر 30 دن تک بغیر ویزا چین میں قیام کر سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین عالمی سطح پر دوبارہ کھلنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس کا اثر فوری طور پر نظر بھی آیا — صرف 2024 میں 2 کروڑ سے زائد افراد نے ویزا فری سہولت کے تحت چین کا سفر کیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں دوگنا ہے۔
فہرست میں یورپ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک شامل ہیں، اور 16 جولائی 2025 سے اس میں آذربائیجان بھی شامل ہو جائے گا۔
لیکن حیران کن طور پر پاکستان اس فہرست میں شامل نہیں۔
قریبی شراکت داری کے باوجود پاکستان نظرانداز
اگرچہ پاکستان اور چین کے تعلقات تاریخی طور پر نہایت گہرے اور اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں — خصوصاً چائنا-پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) جیسے منصوبوں کی وجہ سے — اس کے باوجود پاکستانی شہریوں کے لیے نہ تو ویزا فری انٹری دستیاب ہے اور نہ ہی ٹرانزٹ ویزا کی سہولت۔
پاکستانی شہری اب بھی چین جانے کے لیے ہر قسم کے دورے — سیاحت، کاروبار یا صرف راہداری کے لیے — پیشگی ویزا حاصل کرنے کے پابند ہیں۔
یہ بات نہ صرف عوام بلکہ تجزیہ کاروں کے لیے بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے کہ چین نے کئی دوسرے ایشیائی اور خلیجی ممالک کو سہولتیں دیں، لیکن پاکستان جیسے قریبی اتحادی کو کیوں نظرانداز کیا گیا؟
کن ممالک کو ویزا فری رسائی ملی؟
🔹 یورپ: 30 سے زائد یورپی ممالک — جیسے فرانس، جرمنی، اسپین، اٹلی، نیدرلینڈز، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور ناروے — کے شہریوں کو اب 30 دن کے لیے ویزا فری انٹری دی گئی ہے۔ جبکہ برطانیہ، سویڈن، روس اور یوکرین کے لیے صرف 10 دن کی ٹرانزٹ انٹری کی اجازت ہے۔
🔹 ایشیا و اوشیانا: جاپان، جنوبی کوریا، ملائیشیا، قازقستان، ازبکستان، سنگاپور، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ انڈونیشیا کے شہری صرف 10 دن کی ٹرانزٹ سہولت کے اہل ہیں۔
🔹 مشرق وسطیٰ: سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، بحرین اور کویت جیسے خلیجی ممالک کو بھی ویزا فری رسائی دی گئی ہے — جو کہ چین کی جی سی سی ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت کو ظاہر کرتا ہے۔
🔹 لاطینی امریکہ: ارجنٹائن، برازیل، چلی، پیرو اور یوراگوئے کے شہریوں کو بھی 30 دن کی اجازت ہے۔ میکسیکو کے لیے صرف 10 دن کی ٹرانزٹ سہولت ہے۔
🔹 دیگر: ترکی، اسرائیل، جارجیا، فلپائن، ویتنام، برونائی اور منگولیا شامل ہیں۔ جبکہ امریکہ اور کینیڈا کو صرف ٹرانزٹ انٹری کی اجازت دی گئی ہے۔
ٹرانزٹ سہولت بھی پاکستان کے لیے دستیاب نہیں
چین کی طرف سے کچھ مخصوص بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر 10 دن کی ویزا فری ٹرانزٹ پالیسی متعارف کرائی گئی ہے — لیکن بدقسمتی سے پاکستانی شہری اس سہولت سے بھی محروم ہیں۔
جبکہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور کئی یورپی ممالک کے شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو اب بھی مکمل ویزا عمل سے گزرنا پڑے گا۔
چین کی کھلتی ہوئی دنیا — مگر سب کے لیے نہیں
یہ نئی ویزا پالیسی ظاہر کرتی ہے کہ چین عالمی دنیا کے لیے اپنے دروازے کھولنے کے لیے پرعزم ہے — خاص طور پر عالمی سیاحت، کاروبار، اور سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے۔
تاہم، پاکستان اور دیگر جنوبی ایشیائی و افریقی ممالک کی عدم شمولیت قابل غور ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان اور چین کے درمیان معاشی اور سفارتی روابط مضبوط ہیں۔
اگرچہ اب تک چین کی جانب سے کسی باضابطہ وضاحت نہیں دی گئی، پاکستانی حلقے امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں ہونے والی ویزا پالیسی کی اپڈیٹس میں پاکستان جیسے اہم اتحادی ممالک کو بھی شامل کیا جائے گا۔ فی الحال، پاکستانی شہریوں کو چین جانے کے لیے ویزا کے روایتی طریقے سے ہی گزرنا ہوگا — خواہ وہ سیاحت ہو، تعلیم یا کاروبار