پاکستانی معیشت کے لیے ایک اہم سانس لینے کا موقع اس وقت آیا جب چین نے 3.4 ارب ڈالر کے قرضے رول اوور کر دیے، جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو وقتی سہارا ملا ہے۔ سینئر حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ پیش رفت جون کے اختتام سے قبل ہوئی ہے — جو آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت ایک اہم ہدف ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس مالی امداد میں وہ 2.1 ارب ڈالر بھی شامل ہیں جو گزشتہ تین سال سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں موجود تھے، جبکہ 1.3 ارب ڈالر کا وہ تجارتی قرض بھی دوبارہ دیا گیا ہے جو پاکستان نے دو ماہ قبل واپس کیا تھا۔
ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ’’اس اقدام سے ہمارے ذخائر آئی ایم ایف کے طے کردہ ہدف کے مطابق ہو گئے ہیں۔‘‘
چینی تعاون کے ساتھ ساتھ، مشرق وسطیٰ کے کمرشل بینکوں سے ایک ارب ڈالر اور عالمی مالیاتی اداروں سے مزید 50 کروڑ ڈالر بھی موصول ہو چکے ہیں۔
یہ رول اوور ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور زرِمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق، حکومت کو 30 جون تک کم از کم 14 ارب ڈالر کے ذخائر رکھنا لازمی تھا تاکہ پروگرام کی اگلی قسط کی راہ ہموار ہو سکے۔
وزارتِ خزانہ کے ایک ذریعے کا کہنا تھا، ’’یہ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ ایسے اقدامات ہیں جو مالیاتی منڈیوں کو اعتماد دیتے ہیں۔ چین کا کردار اس ساری صورتحال میں بہت اہم رہا ہے۔‘‘
مرکزی بینک کے ذخائر گزشتہ کئی ماہ سے دباؤ میں رہے ہیں، اور حکومت کو بارہا دوست ممالک اور قلیل مدتی قرضوں پر انحصار کرنا پڑا ہے۔ اگرچہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کچھ استحکام آیا ہے، مگر ملکی معیشت اب بھی بیرونی جھٹکوں، جیسے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور کرنسی کی بے یقینی، کے خطرے سے دوچار ہے۔
تازہ فنڈز کے بعد، توقع ہے کہ حکام اصلاحاتی عمل کو مزید تیز کریں گے اور ریونیو بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھیں گے تاکہ طویل مدتی مالی استحکام حاصل کیا جا سکے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے تاحال باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، لیکن امکان ہے کہ آئندہ چند روز میں اس حوالے سے اعلامیہ جاری کر دیا جائے گا۔