چیف جسٹس نے عمران خان کی ضمانت کی سماعت میں تاخیر کی درخواست مسترد کر دی

سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے 24 جون کے فیصلے کے خلاف اپیلیں سن لیں

اسلام آباد:
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بدھ کے روز واضح کیا کہ سپریم کورٹ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر غیر ضروری التوا برداشت نہیں کرے گی۔ یہ درخواستیں 9 مئی 2023 کے واقعات سے جڑے مختلف مقدمات میں دائر کی گئی ہیں۔

چیف جسٹس آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد شفی صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے، نے لاہور ہائی کورٹ کے 24 جون کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں، جسٹس شہباز علی رضوی کی سربراہی میں، عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔

سماعت کے آغاز میں عدالت کو بتایا گیا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی شدید فوڈ پوائزننگ کے باعث اسپتال میں زیر علاج ہیں، لہٰذا کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی جائے۔

چیف جسٹس آفریدی نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت طویل التوا نہیں دے گی اور سماعت جمعرات (آج) دوبارہ ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔

پی ٹی آئی کے بانی کے وکیل، ایڈووکیٹ سلمان صفدر نے سختی سے التوا کی مخالفت کی۔ انہوں نے عدالت کو یاد دلایا کہ عمران خان کی ضمانت کی درخواست پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ میں چھ ماہ تک زیر التوا رہی، جس دوران 16 سماعتیں ہوئیں اور آٹھ مختلف پراسیکیوٹرز تبدیل کیے گئے۔ انہوں نے کہا: "استغاثہ بار بار وقت لیتا رہا ہے۔ ہم اس سے تنگ آ چکے ہیں۔”

چیف جسٹس آفریدی نے صفدر کو یقین دہانی کرائی کہ سپریم کورٹ میں اب غیر ضروری تاخیر نہیں ہوگی۔ تاہم، جب وکیل نے درخواست کی کہ عمران خان کے اہلِ خانہ، جو عدالت میں موجود تھے، بینچ سے مخاطب ہو سکیں، تو چیف جسٹس نے یہ مؤقف سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا: "ہم صرف وکیل کو سنیں گے، اہلِ خانہ کو عدالت میں بولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”

سماعت کے دوران عمران خان کی بہنیں اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما بھی عدالت میں موجود تھے۔ بعد ازاں، کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔

لاہور ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں دو پولیس اہلکاروں کے بیانات شامل کیے گئے جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ خفیہ طور پر پی ٹی آئی کے اجلاسوں میں شریک ہوئے، جہاں عمران خان نے مبینہ طور پر پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دی کہ گرفتاری کی صورت میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ بیانات نہ تو تاخیر سے سامنے آنے والے ہیں اور نہ ہی ناقابلِ اعتبار۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان پر عائد الزامات بادی النظر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 120-B (فوجداری سازش) اور 121-A (ریاست کے خلاف جنگ یا اس کی کوشش کی سازش) کے زمرے میں آتے ہیں۔ عدالت کے مطابق، 4 مئی کو چکری ریسٹ ایریا (راولپنڈی)، 7 مئی اور 9 مئی کو لاہور میں ہونے والی مبینہ ملاقاتیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ عمران خان نے ہنگامہ آرائی کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا

More From Author

بزدار دورِ حکومت میں 42 کروڑ 20 لاکھ روپے کی ادویات کی خریداری کا ریکارڈ غائب

جج فرینک کیپریو، اپنی رحم دلی اور شفقت کے باعث دنیا بھر میں مقبول، 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے