پی ٹی آئی کے احتجاج پر حکمت عملی زیر غور، اسلام آباد میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ

اسلام آباد | 19 جولائی 2025

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت 5 اگست کو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے متوقع احتجاج کے حوالے سے اپنی حکمتِ عملی اس وقت طے کرے گی جب پارٹی اپنے منصوبے کو حتمی شکل دے گی۔ جمعے کے روز وزارت داخلہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت قبل از وقت ردعمل دینے کے بجائے حالات کے مطابق مناسب وقت پر فیصلہ کرے گی۔

وفاقی کانسٹیبلری کی اصلاحات

گفتگو کے دوران وزیر داخلہ نے وفاقی کانسٹیبلری (ایف سی) میں جاری اصلاحاتی عمل کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایف سی کو جدید خطوط پر تربیت دی جا رہی ہے تاکہ اسے ایک موثر وفاقی فورس میں تبدیل کیا جا سکے، جس کا ڈھانچہ امریکی ماڈل سے مماثلت رکھے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ ایف سی اہلکاروں کی تنخواہیں دیگر سیکیورٹی اداروں کے مساوی کر دی گئی ہیں اور شہداء پیکیج میں بھی نمایاں بہتری لائی گئی ہے، جو ماضی میں سخت عدم مساوات کا شکار تھا۔ “ایف سی کی موجودہ نفری 24 ہزار ہے اور فی الحال اسے بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں، البتہ اس فورس کے معیار کو بہتر بنایا جا رہا ہے،” انہوں نے واضح کیا۔

وضاحتیں، تنبیہات اور کریک ڈاؤن

جب ان سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان عمران خان کے مستقبل سے متعلق مبینہ ملاقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو وزیر داخلہ نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے اسے غیر مصدقہ اور قیاس آرائی قرار دیا۔

اسی طرح، بلوچستان میں دہشتگردی سے متعلق اپنے پچھلے متنازعہ بیان پر وضاحت دیتے ہوئے نقوی نے کہا کہ ان کا یہ کہنا کہ "ایس ایچ او بھی دہشتگردوں سے نمٹ سکتا ہے”، محض ایک استعارہ تھا اور اس کا مقصد پولیس نظام پر اعتماد ظاہر کرنا تھا، نہ کہ زمینی حقائق کو کم تر دکھانا۔

مزید برآں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کم کرانے میں سفارتی کردار ادا کیا، جو کہ اگر درست ہو تو پاکستان کی بین الاقوامی پس پردہ سفارت کاری کا اہم پہلو ظاہر کرتا ہے۔

غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور افغان مہاجرین پر دو ٹوک موقف

وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں قائم 133 غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف جلد سخت کارروائی شروع کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دارالحکومت میں غیر مجاز تعمیرات اور زمینوں پر قبضے کے خلاف سنجیدہ اقدامات کرنے جا رہی ہے۔

مہاجرین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نقوی نے واضح کیا کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو مزید قیام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے لیے اب کوئی نئی مہلت نہیں دی جائے گی، کیونکہ پاکستان اس بوجھ کو مزید نہیں اٹھا سکتا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران اب تک تین لاکھ افغان مہاجرین کو واپس بھیج چکا ہے اور پاکستان بھی اُن افغان شہریوں کو بلیک لسٹ کرے گا جنہیں واپس جانے کی ہدایت کے باوجود وہ ملک میں مقیم ہیں۔ البتہ، انہوں نے افغانستان کو "برادر اسلامی ملک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کابل کے ساتھ مختلف امور پر بات چیت جاری ہے۔

جرائم کے خلاف اقدامات اور ادارہ جاتی نظم و نسق

نقوی نے ایران میں 40 ہزار پاکستانیوں کی گمشدگی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں چلنے والے غیر قانونی کال سینٹرز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان بھی کیا، اور واضح کیا کہ ڈیجیٹل فراڈ جیسے جرائم ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

وزارت داخلہ کے ماتحت اداروں کے انتظامی امور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے انکشاف کیا کہ رینجرز اور گلگت بلتستان اسکاؤٹس سمیت آٹھ اہم محکموں کے نظم و نسق کے لیے فوجی افسران کی تعیناتی زیر غور ہے، تاہم یہ فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا کہ تعیناتی ریٹائرڈ افسران کی ہوگی یا حاضر سروس کی۔

مجموعی منظرنامہ

وزیر داخلہ کی گفتگو سے موجودہ حکومت کی سیکیورٹی اور انتظامی پالیسیوں کی جھلک واضح ہوئی — ایک ایسی سوچ جو نرمی اور سختی، دونوں کو توازن کے ساتھ اپنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ خواہ معاملہ سیاسی احتجاج کا ہو، غیر قانونی رہائش کا یا زمینوں پر قبضے کا — ریاست کا پیغام واضح ہے: ہم دیکھ رہے ہیں، اور وقت آنے پر مناسب اقدام ضرور ہوگا

More From Author

امریکا سے تجارتی مذاکرات میں پیشرفت کی امید، پاکستان کو بڑی پیشرفت کی توقع

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر — مگر صنعت کو اب بھی استحکام کی تلاش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے