لاہور — پاکستان کی علمی و فکری دنیا آج ایک بڑی شخصیت سے محروم ہو گئی۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ، جو ایک ممتاز محقق، مصنفہ اور ماہرِ تعلیم تھیں، لاہور میں انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات نے علمی حلقوں، شاگردوں اور مداحوں کو گہرے غم میں مبتلا کر دیا ہے۔
ڈاکٹر عارفہ زہرہ اپنی علمیت، وقار اور دردِ دل رکھنے والی شخصیت کے باعث ہر سطح پر احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔
علم و خدمت کا سفر
ڈاکٹر زہرہ نے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے بی اے آنرز کے ساتھ کیا، جس کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ایم اے کیا۔ بعد ازاں، انہوں نے امریکہ کی یونیورسٹی آف ہوائی مانوا سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی، جو ان کے علمی سفر کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔
قائدانہ کردار اور خواتین کے حقوق کی علمبردار
انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ بطور پرنسپل لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، انہوں نے خواتین کی تعلیم کے معیار کو بلند کرنے اور نوجوان طالبات کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
بعد ازاں، انہوں نے نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (NCSW) کی چیئرپرسن کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے خواتین کے حقوق کے فروغ، سماجی مساوات، اور انصاف کے لیے آواز بلند کی۔
علم و ثقافت کی نمائندہ آواز
ڈاکٹر عارفہ زہرہ نہ صرف ایک تعلیمی شخصیت تھیں بلکہ پاکستان کے علمی و ثقافتی منظرنامے میں ایک پہچانی جانے والی آواز بھی تھیں۔ انہوں نے پی ٹی وی کے مشہور پروگرام “بارہ دروازے لاہور کے” کے ذریعے تاریخ اور ثقافت کو ایسے انداز میں پیش کیا جو ناظرین کے دلوں کو چھو گیا۔ ان کی گفتگو میں علم، احساس اور پاکستانیت کا حسین امتزاج نظر آتا تھا۔
یادوں میں زندہ رہنے والا نام
ڈاکٹر زہرہ کے انتقال کے ساتھ پاکستان کی علمی دنیا کا ایک سنہرا باب بند ہو گیا، لیکن ان کی تعلیمات اور خیالات ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کے شاگرد آج بھی انہیں ایک ایسی استاد کے طور پر یاد کرتے ہیں جنہوں نے سوچنے، سمجھنے اور بہتر انسان بننے کا حوصلہ دیا۔
تعلیم، خواتین کی خودمختاری اور پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کا نام ہمیشہ علم، وقار اور خدمت کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا ایک ایسی شخصیت جنہوں نے علم کو کردار میں ڈھال کر دکھایا۔