اسلام آباد:
پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اُس کی جانب سے دوبارہ کسی قسم کی فوجی مہم جوئی کی گئی تو اس بار جواب محدود نہیں ہوگا — بلکہ جوابی کارروائی بھارت کے معاشی دل تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ سخت پیغام پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دیا۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے اُن خبروں کو بھی سختی سے مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر مستقبل میں سیاست میں قدم رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جنرل شریف نے گفتگو کا رخ بھارت کی جانب سے بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی کی طرف موڑتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں اور ان کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
“اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی کی حماقت دہرائی، تو اس بار جواب سرحدی علاقوں تک محدود نہیں ہوگا۔ ہم مشرقی بھارت سے شروعات کریں گے۔ بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان دشمن کے اندر تک وار کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے،” لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے واضح الفاظ میں کہا۔
ان کا یہ بیان اُس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جب رواں سال اپریل میں بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں سیاحوں پر حملہ ہوا، جس کا الزام نئی دہلی نے فوری طور پر پاکستان پر عائد کر دیا۔
اس کے بعد مئی میں دونوں ملکوں کے درمیان چار روز تک شدید جھڑپیں ہوئیں۔ بھارتی افواج کی جانب سے مبینہ طور پر پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے بعد، اسلام آباد نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے نام سے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ اس دوران پاکستان نے بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے — جن میں تین رافیل جیٹ بھی شامل تھے — جبکہ درجنوں ڈرونز بھی تباہ کیے گئے۔
یہ جھڑپیں 87 گھنٹوں بعد اُس وقت رکیں جب امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف جنگ بندی کے لیے کلیدی کردار ادا کیا بلکہ بعد ازاں واشنگٹن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران ان کی قیادت کو سراہا اور کہا کہ ان سے ملنا اُن کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
آپریشن کی کامیابی اور عالمی سطح پر حاصل ہونے والی پذیرائی کے بعد سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئیں کہ شاید فیلڈ مارشل منیر مستقبل میں سیاسی میدان میں قدم رکھ سکتے ہیں۔ تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ آرمی چیف کا واحد مقصد ملکی دفاع ہے۔
جب لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ "ہم مشرقی بھارت سے شروعات کریں گے”، تو بھارتی میڈیا اور حکام نے اس بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور اسے بنگلہ دیش سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اس پروپیگنڈے کا پاکستان کی جانب سے فوری اور واضح جواب آیا کہ بیان کا سیاق و سباق بھارت کے اپنے مشرقی اقتصادی زونز سے متعلق تھا، نہ کہ کسی تیسرے ملک سے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے مشرقی علاقے — جن میں کولکتہ، جمشید پور، رانچی، بھوبنیشور اور پٹنہ جیسے شہر شامل ہیں — اہم صنعتی، تجارتی اور توانائی مراکز سمجھے جاتے ہیں، جو کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں خاص طور پر حساس اور کمزور ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اسلام آباد خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ضرور ہے، لیکن یہ ہرگز کمزوری کی علامت نہیں۔ ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:
“پاکستان نے ہمیشہ برداشت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، مگر اگر ہمیں اُکسایا گیا تو ہم اپنے دفاع کا حق پوری طاقت سے استعمال کریں گے — وہ بھی انتہائی فیصلہ کن انداز میں۔” حالیہ بیانات اور پس منظر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کا پیغام ایک بار پھر صاف اور غیر مبہم ہے: اگر بھارت نے کسی بھی نئی جارحیت کی کوشش کی، تو پاکستان اس کا جواب پوری قوت، حکمتِ عملی اور عزم کے ساتھ دے گا