پاکستان کا بھارت کے ساتھ آبی تنازع میں بڑی قانونی کامیابی

اسلام آباد:
پاکستان نے بھارت کے ساتھ آبی وسائل کے تنازع میں ایک اہم سفارتی اور قانونی کامیابی حاصل کر لی ہے، جب مستقل ثالثی عدالت (PCA) نے سندھ طاس معاہدے کی تشریح کے معاملے میں پاکستان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے بھارت کو مغربی دریاؤں کا پانی بلا رکاوٹ پاکستان کو فراہم کرنے کا پابند کر دیا۔

دی ہیگ میں قائم عدالت نے یہ حتمی اور پابند فیصلہ 8 اگست 2025 کو سنایا، جو کہ پاکستان نے 2016 میں دائر کیا تھا۔ پیر کے روز یہ فیصلہ عوام کے سامنے لایا گیا، جس میں واضح طور پر پاکستان کے مؤقف کی توثیق کی گئی کہ معاہدے کی دفعات پر حرف بہ حرف عمل ہونا چاہیے۔

عدالت کے مطابق، سندھ، جہلم اور چناب پر بھارت کو ہائیڈرو پاور منصوبے بنانے کی جو استثنائی اجازت معاہدے میں دی گئی ہے، اس کی تشریح نہایت محدود اور معاہدے کے عین مطابق کی جائے گی، نہ کہ بھارت کی مرضی یا بین الاقوامی "بہترین طریقہ کار” کے تحت۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت ایسے ڈیم ڈیزائن نہیں بنا سکے گا جو پاکستان کے پانی کے حقوق کو خطرے میں ڈالیں۔

فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈیم کے نچلے حصے سے پانی خارج کرنے والے ڈھانچے (Low-Level Outlets) صرف اُس وقت استعمال کیے جا سکتے ہیں جب تلچھٹ نکالنے یا کسی تکنیکی ضرورت کے لیے ناگزیر ہوں، اور تب بھی ان کا سائز کم سے کم اور مقام زیادہ سے زیادہ بلند ہونا چاہیے۔ اسی طرح گیٹڈ اسپل ویز، ذخیرہ گاہ کی گنجائش (Pondage Capacity) اور فری بورڈ اونچائی پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں، تاکہ یہ تمام فیچرز صرف حفاظت اور معاہدے کی تعمیل کے لیے ہوں، نہ کہ بھارت کی سہولت کے لیے۔

اگرچہ بھارت نے کارروائی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا، مگر عدالت نے اپریل 2025 میں بھارت کی جانب سے معاہدے کو "معطل” کرنے کے اعلان کے باوجود اپنے دائرہ اختیار کو برقرار رکھا۔ عدالت نے دونوں ممالک کو یاد دلایا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ثالثی کے فیصلے حتمی، پابند اور مستقبل کے تنازعات پر بالادست حیثیت رکھتے ہیں۔

اسلام آباد میں ماہرین نے اس فیصلے کو پاکستان کے لیے "غیر معمولی کامیابی” قرار دیا۔ سابق انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے مغربی دریاؤں کے بلا تعطل بہاؤ کے مؤقف کو درست ثابت کرتا ہے اور بھارت کی حالیہ کوششوں کے خلاف ایک مضبوط قانونی مثال قائم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رتل اور کشن گنگا ڈیم سے متعلق مخصوص تنازعات پر فیصلہ بعد میں مزید سماعتوں کے بعد آئے گا۔

جماعت علی شاہ نے بھارت کی جانب سے معاہدے کی دفعات معطل کرنے، خاص طور پر ہائیڈرو لوجیکل ڈیٹا فراہم نہ کرنے کو خطرناک رجحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس معاملے کو الگ سے بین الاقوامی سطح پر چیلنج کرنا چاہیے۔

سابق وفاقی وزیر قانون اور قانونی ماہر احمد بلال صوفی نے اس فیصلے کو پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا، جو نہ صرف سفارتی بلکہ قانونی سطح پر بھی پاکستان کے مؤقف کو مضبوط بناتی ہے۔ ان کے مطابق، "عدالت نے معاہدے کی پاکستان کے مطابق تشریح کو تقویت دی ہے، جو آئندہ مذاکرات اور تنازعات میں پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔” اگرچہ کشن گنگا اور رتل ڈیم کے معاملات ابھی زیرِ التوا ہیں، لیکن یہ فیصلہ واضح پیغام دیتا ہے کہ دریاؤں کے استعمال میں یکطرفہ فائدہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے پاکستان کی بطور زیریں ملک (Downstream Country) کمزوری کو بھی تسلیم کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کے بنیادی اصول — پانی کی منصفانہ اور قابلِ بھروسہ تقسیم کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے

More From Author

رت کا سندھ پر آبی حملہ ہماری تہذیب پر وار ہے، بلاول بھٹو

 نیب کا بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں اور جائیداد مالکان کو مکمل تحفظ کا یقین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے