پاکستان کا بھارت کو سیلابی وارننگ پر سندھ طاس معاہدے کو نظرانداز کرنے پر احتجاج

اسلام آباد:
پاکستان نے پیر کے روز بھارت کی جانب سے سیلابی وارننگ کو سفارتی چینلز کے ذریعے پہنچانے پر شدید اعتراض کیا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ایسی معلومات سندھ طاس معاہدے کے تحت دی جانی چاہیے تھیں، جو اس طرح کے تبادلوں کو باقاعدہ طریقہ کار کے تحت منظم کرتا ہے۔

اسلام آباد میں حکام کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے اتوار کی صبح ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا کہ جموں کے قریب دریائے توی میں 24 اگست صبح 10 بجے شدید سیلاب کا امکان ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ بھارت نے اپریل میں پہلگام حملے کے بعد معاہدے کو معطل کرنے کے اعلان کے بعد ایسی اطلاع دی۔

بھارتی ہائی کمیشن کے خط میں کہا گیا:
“بھارتی ہائی کمیشن، وزارتِ خارجہ حکومتِ پاکستان کو اپنا سلام پیش کرتا ہے اور درج ذیل سیلابی ڈیٹا فراہم کرنے کا اعزاز رکھتا ہے۔ مقام: دریائے توی، جموں۔ تاریخ/وقت: 24 اگست 2025، صبح 10 بجے۔ صورتحال: شدید سیلاب۔”

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس اطلاع کی تصدیق تو کی مگر طریقۂ کار پر سوال اٹھایا۔ بیان میں کہا گیا:
“24 اگست 2025 کو بھارت نے سیلابی وارننگ سندھ طاس کمیشن کے بجائے سفارتی ذرائع سے دی، حالانکہ معاہدے کے تحت یہ معلومات کمیشن کے ذریعے فراہم کرنا لازم ہے۔ بھارت معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد کا پابند ہے۔”

دفتر خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ بھارت نے بظاہر جان بوجھ کر سندھ طاس معاہدے کا حوالہ نہیں دیا تاکہ ایک نیا طریقہ کار رائج کیا جا سکے۔ اہلکار کے مطابق، یہ قدم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دہلی معاہدے کو بائی پاس کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بھارتی حکام نے تاہم اس مؤقف کا دفاع کیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک سرکاری نمائندے نے بتایا کہ یہ معلومات “انسانی ہمدردی کی بنیاد پر” فراہم کی گئیں، نہ کہ معاہدے کے تحت۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

بھارت کے اس انتباہ کے بعد پنجاب کی پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے گجرات اور سیالکوٹ کے لیے سیلابی وارننگ جاری کی۔ حکام نے خبردار کیا کہ دریائے توی میں بڑھنے والے پانی کی سطح دریائے چناب میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ نگرانی اور ایمرجنسی ردعمل کے نظام کو فوراً فعال کریں۔

یہ تنازع ایک بار پھر 1960 کے سندھ طاس معاہدے پر اختلافات کو اجاگر کرتا ہے، جو عالمی بینک کی ثالثی کے تحت طے پایا تھا۔ معاہدے کے مطابق پاکستان کو دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر حق حاصل ہے جبکہ بھارت کو صرف محدود زرعی اور آبی توانائی کے منصوبوں کی اجازت ہے، اس شرط پر کہ دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں تبدیلی نہ ہو۔

بھارت نے رواں سال اپریل میں پہلگام حملے کے بعد پاکستان کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے معاہدے کو “معطل” قرار دیا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کئی دہائیوں میں بدترین فوجی کشیدگی دیکھنے میں آئی۔

تاہم بین الاقوامی ثالثی فورمز بارہا اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ بھارت معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار نہیں ہو سکتا۔ مستقل ثالثی عدالت نے حالیہ فیصلے میں واضح کیا کہ پاکستان کے پانی کے حقوق متاثر نہیں کیے جا سکتے اور بھارت کو رن آف دی ریور منصوبوں میں بھی معاہدے کی پابندی کرنی ہوگی۔ پاکستان نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر بھارت نے اس کے حصے کے پانی پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی تو اسے جارحیت کے مترادف سمجھا جائے گا

More From Author

بیجنگ نے پاک فوج کو "چین–پاکستان دوستی کا مستقل محافظ” قرار دیا

27 اگست کو کراچی میں بھاری بارش کے امکانات نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے