اسلام آباد/نیویارک – 19 اگست 2025:
چین نے پاکستان میں حالیہ سیلابوں کے باعث ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہری افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا عزم دہرایا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، چینی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ وزارت نے اپنے بیان میں اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستانی عوام اس سانحے پر جلد قابو پا کر بحالی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔
چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار کو بھی براہِ راست تعزیتی پیغام بھیجا۔ ترجمان کے مطابق، پاکستان میں قائم چینی سفارتخانہ اپنے شہریوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اب تک کسی چینی شہری کے جاں بحق یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ادھر، تباہی کے اعداد و شمار میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جون سے اب تک بارشوں، لینڈ سلائیڈز اور سیلابی ریلوں کے باعث کم از کم 657 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بھی پاکستان میں جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ نیویارک سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر نہایت رنجیدہ ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور متاثرین کی مدد کے لیے بین الاقوامی تعاون جاری رہے گا۔
رپورٹس کے مطابق صرف حالیہ شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں میں 328 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں سب سے زیادہ جانی نقصان خیبرپختونخوا میں ہوا۔ ضلع بونیر میں بادل پھٹنے کے باعث پہاڑوں سے اترنے والے پانی نے گھروں کو بہا دیا، جس سے وسیع پیمانے پر تباہی مچ گئی۔ چین اور اقوامِ متحدہ دونوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، جو اس وقت حالیہ برسوں کے سب سے مہلک مون سون سانحے سے گزر رہا ہے