پاکستان میں جاری معاشی مشکلات کے درمیان بے روزگاری ایک سنگین مسئلے کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔ نئے لیبر فورس سروے کے مطابق 2024–25 میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1% تک پہنچ گئی ہے، جو 2020–21 کی 6.3% کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں بے روزگار افراد کی تعداد 4.51 ملین سے بڑھ کر 5.9 ملین ہو گئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا ہے کہ صوبوں میں خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں بے روزگاری کی شرح 9.6% ریکارڈ کی گئی۔ پنجاب میں یہ شرح 7.3%، جبکہ بلوچستان اور سندھ میں بالترتیب 5.5% اور 5.3% رہی۔
اسلام آباد میں رپورٹ کی رونمائی کے موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی سخت شرائط، سست معاشی سرگرمیاں اور موسمیاتی آفات نے ملکی روزگار کے حالات کو بری طرح متاثر کیا۔ ان کے مطابق اگرچہ ان اقدامات سے مہنگائی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا، تاہم اب معاشی استحکام کی بحالی مزید روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔
سروے میں نوجوانوں کی صورتحال کو بھی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ 15 سے 24 برس کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.9% تک پہنچ گئی ہے، جو تمام عمر کے گروپوں میں سب سے زیادہ ہے۔ خواتین کی صورتحال مزید پریشان کن ہے، جن کی بے روزگاری کی شرح 10.5% ریکارڈ کی گئی، جب کہ 25 سے 34 برس کی خواتین میں یہ شرح بڑھ کر 14.9% تک جا پہنچی۔
تعلیم کے اعتبار سے بھی نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ بغیر تعلیم والے افراد میں بے روزگاری کی شرح 3.2% سے بڑھ کر 4.4% ہو گئی جبکہ انٹرمیڈیٹ پاس افراد میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے برعکس میٹرک اور گریجویٹ سطح کے افراد میں بے روزگاری کی شرح میں کمی ہوئی، تاہم اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین میں بے روزگاری کی شرح 23.9% کے ساتھ سب سے زیادہ رہی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی لیبر فورس میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2020–21 میں لیبر فورس کا حجم 71.76 ملین تھا جو 2024–25 میں بڑھ کر 85.62 ملین ہوگیا۔ پنجاب ملک کی سب سے بڑی ورک فورس رکھتا ہے، جس کے بعد سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا نمبر آتا ہے۔
روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ تو ہوا ہے لیکن یہ اضافہ زیادہ تر دیہی علاقوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ کھیتی باڑی، جنگلات اور ماہی گیری کے شعبے اب بھی سب سے زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔
سروے کے مطابق خواتین لیبر فورس میں شدید حد تک کم نمائندگی رکھتی ہیں۔ اگرچہ وہ کام کی عمر کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں، لیکن عملی طور پر لیبر فورس میں ان کا حصہ صرف 25% ہے۔ مرد اب بھی غیر رسمی شعبے میں سب سے زیادہ کام کرتے ہیں، جبکہ خواتین کو رسمی روزگار کے مقابلے میں زیادہ تر غیر رسمی شعبوں میں کام کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح ملک بھر میں بڑھی ہے، تاہم کے پی، پنجاب اور بلوچستان میں نوجوانوں کے روزگار سے متعلق شرحوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی، جبکہ سندھ میں اس کے برعکس کمی دیکھنے میں آئی۔
مجموعی طور پر، رپورٹ اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ بڑھتی ہوئی لیبر فورس کے مقابلے میں روزگار کے مواقع یکساں رفتار سے نہیں بڑھ رہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے روزگار کے نئے امکانات پیدا ہونے کی امید ہے۔