پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعاون میں وسعت، ‘اُڑان پاکستان’ کا ہدف 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت

اسلام آباد – 4 اگست 2025:
پاکستان نے معاشی استحکام اور ترقی کے نئے سفر کا آغاز کرتے ہوئے چین کے ساتھ ایک اور اہم معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ اقدام ’اُڑان پاکستان‘ نامی قومی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد 2035 تک ملک کو ایک کھرب ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔

اتوار کے روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال اور چین کے ڈیولپمنٹ ریسرچ سینٹر (DRC) اور سینٹر فار انٹرنیشنل نالج آن ڈیولپمنٹ (CIKD) کے صدر لو ہاؤ کے درمیان ملاقات ہوئی، جس کے دوران دونوں ممالک نے معاشی تعاون کو مزید فروغ دینے کے معاہدے پر دستخط کیے۔

وزیر احسن اقبال نے کہا،

“یہ شراکت داری محض علامتی نہیں بلکہ عملی قدم ہے۔ ہم چین کے اُس ماڈل سے سیکھنا چاہتے ہیں جس نے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا اور اُسے عالمی معاشی طاقت بنایا۔”

اُڑان پاکستان کا خاکہ پانچ بڑے شعبوں پر مبنی ہے: برآمدات میں اضافہ، ڈیجیٹل ترقی، ماحول و موسمیاتی تبدیلی، توانائی و انفراسٹرکچر، اور سماجی انصاف۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد عالمی شراکت داری کے ذریعے معیشت کو مستحکم بنانا اور اسے نئی جہت دینا ہے، اور چین اس میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

احسن اقبال نے کہا،

“CPEC نے مضبوط بنیاد رکھی، اور اب ہم معاشی و سماجی تعاون کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ چین کی طویل المدتی منصوبہ بندی اور اصلاحات سے ہمیں بھی رہنمائی مل سکتی ہے۔”

لو ہاؤ نے بھی پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کی برآمدات کو فروغ دینے میں مکمل تعاون کرے گا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تحقیق، پالیسی سازی اور افرادی قوت کی تربیت جیسے شعبوں میں مشترکہ کام کو سراہا۔

ملاقات کے دوران پاکستان کی چینی منڈیوں میں رسائی کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔
احسن اقبال نے کہا:

“چین ہر سال تقریباً دو کھرب ڈالر کی درآمدات کرتا ہے، لیکن پاکستان کی حصہ داری اس میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم اس صورتحال کو بدلنا چاہتے ہیں — یہ ہمارے لیے صرف ایک ہدف نہیں بلکہ ایک معاشی ضرورت ہے۔”

انہوں نے ملک کی اندرونی معیشت پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ پالیسی ریٹ میں واضح کمی — 23 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد تک آنا — ایک مثبت اشارہ ہے، جب کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج 1,40,000 پوائنٹس کی حد عبور کر چکی ہے۔

“عالمی مالیاتی ادارے بھی اب پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار تسلیم کر رہے ہیں۔ اُڑان پاکستان کوئی نعرہ نہیں، بلکہ ایک قابلِ عمل منصوبہ ہے جو حقیقی اصلاحات اور نتائج پر مبنی ہے۔”

چین کے ساتھ طے پانے والا نیا معاہدہ اس پالیسی کو مزید تقویت دے گا، جس کے تحت پاکستان عالمی تجربات سے سیکھ کر اپنی ترقی کی رفتار تیز کرنا چاہتا ہے۔

معاشی چیلنجز سے نمٹنے اور خود انحصاری کی جانب بڑھنے کے لیے حکومت کو امید ہے کہ ایسے شراکت دار ملک کی معیشت کو ایک مستحکم اور روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

More From Author

پاکستان اور ایران کا 10 ارب ڈالر کی باہمی تجارت کا ہدف؛ بدلتی عالمی سیاست میں قریبی تعلقات کی نئی راہ

آئی ایم ایف کا واشنگٹن کنسنس بمقابلہ چین کا ترقیاتی ماڈل: کیا پاکستان کو اپنے معاشی راستے پر نظرثانی کی ضرورت ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے