پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ویزا پالیسی میں نرمی — دوطرفہ تعلقات میں نئی پیش رفت

اسلام آباد | 24 جولائی 2025

جنوبی ایشیا کی دو اہم ریاستوں پاکستان اور بنگلہ دیش نے ایک اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو باہمی طور پر ویزا فری داخلے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ پیش رفت نہ صرف سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب اشارہ کرتی ہے بلکہ ایک نئی شروعات کا وعدہ بھی کرتی ہے۔

یہ فیصلہ بدھ کے روز ڈھاکہ میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کیا گیا، جہاں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) جہانگیر عالم چودھری کے درمیان اہم بات چیت ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محسن نقوی اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے چیئرمین کی حیثیت سے ایشین کرکٹ کونسل (ACC) کے اجلاس کے سلسلے میں ڈھاکہ میں موجود تھے، لیکن کرکٹ کے میدان سے ہٹ کر ہونے والی یہ ملاقات کہیں زیادہ پُراثر ثابت ہوئی۔

تلخی سے تعلقات تک

یہ ملاقات اس حقیقت کی علامت ہے کہ دونوں ممالک اب ماضی کی تلخیوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنے کو تیار ہیں۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے دوران تعلقات خاصے کشیدہ رہے۔ لیکن اگست 2023 میں ان کی 15 سالہ حکومت کے خاتمے کے بعد، دونوں ملکوں نے تعلقات بحال کرنے کی جانب مثبت پیش رفت کی ہے۔

ایک وقت تھا جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے تقریباً مفلوج ہو چکے تھے، لیکن حالیہ مہینوں میں اعلیٰ سطحی روابط میں اضافہ ہوا ہے۔ محسن نقوی کا یہ دورہ اسی سلسلے کی تازہ ترین اور شاید سب سے علامتی کڑی ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بھی اپریل میں ڈھاکہ کا دورہ طے تھا، لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یہ دورہ مؤخر کر دیا گیا۔ اس کے باوجود سفارتی عمل کی رفتار کم نہیں ہوئی۔

ویزا فری انٹری — اعتماد کا اظہار

محسن نقوی کے دورے کا سب سے واضح اور اہم نتیجہ سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزا کے بغیر داخلے کی اجازت ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی انتظامی قدم لگ سکتا ہے، لیکن جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں یہ کسی بڑے اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

شیخ حسینہ کے دور میں پاکستانی سفارتکاروں کو نہ صرف کڑی نگرانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا بلکہ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔ پاکستانی برآمدات کو غیر رسمی رکاوٹوں کا سامنا رہا۔ اب حکام کے مطابق، عبوری بنگلہ دیشی حکومت نے ان میں سے کئی پابندیاں ختم کر دی ہیں۔

پاکستان کی وزارت داخلہ نے اس فیصلے کو “دوطرفہ اعتماد کی بحالی اور سفارتی روابط کو مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم قدم” قرار دیا۔ ایک ایسے خطے میں جہاں ویزا پالیسی اکثر سیاسی پیغام رسانی کا ذریعہ بن جاتی ہے، یہ اقدام محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک مضبوط اشارہ ہے۔

ویزے سے آگے: سیکیورٹی پر مکالمہ

یہ ملاقات صرف ویزا پالیسی تک محدود نہیں رہی۔ دونوں ممالک نے اندرونی سیکیورٹی، پولیس ٹریننگ، منشیات کے خلاف اقدامات، انسانی اسمگلنگ کی روک تھام اور انسداد دہشت گردی جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

پاکستان نے بنگلہ دیشی پولیس افسران کے لیے تربیتی مواقع فراہم کرنے کی پیشکش کی، جبکہ دونوں ممالک کی پولیس اکیڈمیوں کے درمیان تبادلہ پروگرام شروع کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔

اس تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے گی، جس کی سربراہی پاکستان کے وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا کریں گے۔ اس کے علاوہ، بنگلہ دیش کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جلد نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ کرے گا۔

پرتپاک استقبال، پُرامید مستقبل

ڈھاکہ میں محسن نقوی کو بنگلہ دیشی وزارتِ داخلہ میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس نے اس ملاقات کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔ وزیر داخلہ جہانگیر عالم چودھری نے اس دورے کو “دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اہم سنگ میل” قرار دیا اور پاکستان کی جانب سے سیکیورٹی تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

اس ملاقات میں بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے داخلہ خدا بخش، سیکریٹری نسیم الغنی، ایڈیشنل سیکریٹری شمیم خان، جبکہ پاکستان کے ناظم الامور محمد واسف اور پولیٹیکل قونصلر کامران دہیگل سمیت دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔

جنوبی ایشیا میں سفارت کاری کا نیا باب؟

اگرچہ ان فیصلوں کے مکمل اثرات ظاہر ہونے میں وقت لگے گا، لیکن اس ملاقات کی علامتی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ برسوں کی بداعتمادی اور سرد تعلقات کے بعد، اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش ایک زیادہ مثبت اور تعمیری مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

سفارتی ویزا فری انٹری شاید ایک شروعات ہو — لیکن اس کے پیچھے چھپی نیت بڑی ہے۔ ممکن ہے آنے والے وقت میں تجارت، ثقافتی تبادلوں اور پالیسی کی ہم آہنگی کے دروازے بھی کھلیں۔

فی الحال، اس پورے خطے میں جہاں خبریں عموماً کشیدگی اور تنازعات سے بھری ہوتی ہیں، یہ واقعہ ایک خوش آئند اور سفارتی اُمید کی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔

More From Author

سرحد پار طلاق کا تنازع: چینی خاتون کے خلع کیس نے قانونی موڑ اختیار کر لیا

وزیراعظم شہباز شریف کی بھارت کو مذاکرات کی پیشکش، برطانیہ کے کردار کی ستائش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے