اسلام آباد – 12 جولائی 2025: پاکستان کی صنعتی بحالی کی جانب ایک اہم قدم اُٹھاتے ہوئے پاکستان اور روس نے پاکستان اسٹیل ملز (PSM) کی بحالی اور توسیع کے لیے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ کبھی پاکستان کی صنعتی شناخت سمجھی جانے والی یہ اسٹیل مل گزشتہ کئی برسوں سے بند پڑی تھی۔
یہ معاہدہ روس کے دارالحکومت ماسکو میں قائم پاکستانی سفارتخانے میں طے پایا، جہاں پاکستان کے سیکریٹری برائے صنعت و پیداوار سیف انجم اور روس کی کمپنی انڈسٹریز انجینئرنگ ایل ایل سی کے جنرل ڈائریکٹر، وادم ویلیچکو نے دستخط کیے۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان اور روس میں پاکستان کے سفیر محمد خالد جمالی بھی موجود تھے۔
کراچی میں قائم پاکستان اسٹیل مل کو تقریباً 52 سال قبل روس کے تعاون سے تعمیر کیا گیا تھا، تاہم یہ ادارہ 2015 سے غیر فعال چلا آ رہا تھا۔ اس کی بوسیدہ مشینری اور مسلسل مالی خسارے کے باعث یہ قومی خزانے پر بوجھ بن چکی تھی۔ اسے عالمی سرمایہ کاروں کو بیچنے کی متعدد کوششیں بھی کی گئیں، لیکن کوئی بھی سودہ کامیاب نہ ہو سکا۔
معاہدے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ "یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور روس کی مشترکہ صنعتی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مستقبل میں جدید بنیادوں پر پاکستان کے اسٹیل سیکٹر کو دوبارہ استوار کرنے کے عزم کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔”
معاہدے کا دائرہ کار صرف پرانی اسٹیل مل کی بحالی تک محدود نہیں، بلکہ پاکستان اور روس نے کراچی میں بالکل نئی اسٹیل ملز قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ بات روسی نمائندے ڈینس نظروف اور ہارون اختر خان کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کے دوران طے پائی۔
اسی حوالے سے چند روز قبل ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد نے ماسکو میں روسی نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک سے ملاقات کی، جس میں معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی اور ہارون اختر خان بھی شامل تھے۔ وفد نے روسی حکام کو آگاہ کیا کہ حکومت پاکستان اس منصوبے کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کی تاریخی علامت ہے بلکہ مستقبل کی شراکت داری کا دروازہ بھی کھول سکتا ہے۔
یاد رہے کہ سندھ حکومت نے 2024 میں روس سے باضابطہ طور پر درخواست کی تھی کہ وہ پاکستان اسٹیل مل کی بحالی میں تکنیکی اور سرمایہ کاری کے لحاظ سے مدد فراہم کرے۔ اگرچہ ماضی میں اس ادارے کو نجی شعبے میں دینے کی کئی کوششیں کی گئیں، لیکن موجودہ حکومت نے 2024 سے 2029 کے نجکاری منصوبے میں پاکستان اسٹیل مل کو شامل نہیں کیا۔ پاکستان اسٹیل مل ملک کی سب سے بڑی صنعتی تنصیب ہے، جو سالانہ 1.1 سے 5 ملین ٹن اسٹیل اور لوہے کی پیداوار کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس عظیم منصوبے کی بحالی نہ صرف ملکی معیشت میں نئی روح پھونک سکتی ہے بلکہ پاکستان اور روس کے تعلقات کو ایک نئے صنعتی دور میں داخل کر سکتی ہے