امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے BRICS اتحاد کی حمایت کرنے والے ممالک کو سخت خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایسے تمام ممالک پر 10 فیصد اضافی درآمدی ٹیکس (ٹیرِف) عائد کیا جائے گا جو "امریکی مفادات کے خلاف پالیسیوں” کی حمایت کرتے ہیں۔
اتوار کی رات اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا:
"جو بھی ملک BRICS کی امریکہ مخالف پالیسیوں کے ساتھ کھڑا ہوگا، اُس پر 10 فیصد اضافی ٹیرِف عائد کیا جائے گا — اور اس پالیسی میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔”
یہ دھمکی اس تجارتی پالیسی کا حصہ ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ دوبارہ نافذ کرنے جا رہی ہے، جس کے تحت ان ممالک پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے جو واشنگٹن سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ BRICS اتحاد — جس میں چین، روس، بھارت، جنوبی افریقہ کے علاوہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب، ایران اور مصر جیسے ممالک بھی شامل ہو چکے ہیں — امریکی غلبے کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے قبل ازیں 9 جولائی کی ڈیڈلائن دی تھی تاکہ ممالک امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے طے کر لیں۔ تاہم، امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لُٹ نک نے واضح کیا کہ نئے ٹیرف یکم اگست سے نافذ العمل ہوں گے، یعنی ممالک کے پاس اب صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ تقریباً درجن بھر ممالک کو پیر کے روز باضابطہ خطوط بھیجے جائیں گے جن میں بتایا جائے گا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو اُن پر کتنا نیا ٹیکس لگے گا۔
"یہ ٹیرِف ہوں گے، اور وہی رہیں گے۔ ٹیرِف کا مطلب ہے ٹیرِف،” ٹرمپ نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ ایک بار پھر اپنی پرانی تجارتی حکمت عملی کی طرف لوٹ آئے ہیں — جس میں درآمدی سامان پر بھاری ٹیکس لگا کر ملکی صنعت کو تحفظ دینا اور ملازمتیں بڑھانا مرکزی نکتہ ہے۔ اپریل میں انہوں نے "یومِ آزادی” کے موقع پر دنیا بھر سے آنے والے درآمدی سامان پر نئے ٹیکسوں کا اعلان کیا، جن کی شرح بعض صورتوں میں 50 فیصد تک تھی۔ تاہم، تین ماہ کی مذاکراتی مہلت کے تحت اُن اقدامات کو وقتی طور پر معطل کر دیا گیا۔
اب تک صرف برطانیہ، ویتنام، اور جزوی طور پر چین ہی امریکہ کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کر پائے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اسٹیل پر ٹیکس جیسے کلیدی معاملات پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے جاپان کو وارننگ دی کہ اگر وہ مقررہ وقت تک معاہدہ نہ کر سکا تو اُس پر 35 فیصد تک ٹیکس لگ سکتا ہے۔ اسی طرح یورپی یونین کو بھی مئی میں بتایا گیا تھا کہ وہ 50 فیصد ٹیرف کی زد میں آ سکتی ہے — جس پر یورپی ممالک ایک عبوری معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بیشتر مصنوعات پر 10 فیصد ٹیکس برقرار رہے اور گاڑیوں و اسٹیل پر ٹیکس کم کروایا جا سکے۔
یہ تمام تر پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ اور BRICS کے درمیان تعلقات میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں ریو ڈی جنیرو میں منعقدہ BRICS وزرائے خزانہ کے اجلاس کے بعد امریکہ کی تجارتی پالیسی کو عالمی معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) جیسے اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔
BRICS — جو کبھی صرف پانچ ممالک پر مشتمل تھا — اب نصف سے زائد عالمی آبادی کی نمائندگی کرتا ہے اور مغربی مالیاتی نظام کے مقابلے میں متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔
پچھلے سال بھی ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر BRICS نے ڈالر کے مقابلے میں اپنی کرنسی متعارف کروائی تو اُن پر 100 فیصد ٹیرِف لگا دیا جائے گا۔ اب جب کہ BRICS ایک بار پھر عالمی مالیاتی نظام کو تبدیل کرنے کی بات کر رہا ہے، ٹرمپ کا سخت مؤقف دوبارہ منظر عام پر آیا ہے۔
بین الاقوامی چیمبر آف کامرس کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل، اینڈریو ولسن کا کہنا ہے کہ چین سے تجارتی تعلقات ختم کرنا صرف خواہش کی بات ہے، حقیقت میں ایسا کرنا مشکل ہے۔
"چین الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریز اور نایاب معدنیات میں غالب ہے۔ ان شعبوں میں چین کے متبادل کہیں نظر نہیں آتے،” انہوں نے کہا۔
جیسے جیسے یکم اگست قریب آ رہا ہے، دنیا بھر کی مارکیٹیں بے چینی کا شکار ہیں، کیونکہ خدشہ ہے کہ تجارتی کشیدگی میں شدت سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے — اور ایک کمزور عالمی معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔