ٹرمپ کا دعویٰ: پاکستان اور بھارت کی جھڑپ میں آٹھ طیارے مار گرائے گئے

واشنگٹن — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر متنازع بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران مجموعی طور پر آٹھ طیارے تباہ کیے گئے تھے۔

امریکن بزنس فورم، میامی میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ وہ اس وقت پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے رہے تھے جب اچانک دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر گئی۔
انہوں نے کہا، "میں دونوں کے ساتھ ٹریڈ ڈیل کر رہا تھا، پھر میں نے اخبار کے پہلے صفحے پر پڑھا وہ جنگ پر جا رہے ہیں۔ سات یا آٹھ جہاز مار گرائے گئے۔ دراصل آٹھ جہاز تباہ ہوئے تھے۔”

مئی 2025 کی یہ جھڑپ کئی دہائیوں میں دونوں ملکوں کے درمیان سب سے شدید تصادم ثابت ہوئی۔ یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب بھارتی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر دہشت گرد حملہ ہوا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔ نئی دہلی نے اس حملے کا الزام اسلام آباد پر لگایا، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے ایک غیر جانب دار بین الاقوامی تحقیقات میں شامل ہونے کی پیشکش کی۔

اس دوران، عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان نے بھارت کے سات لڑاکا طیارے جن میں تین رافیل بھی شامل تھے اور کئی ڈرون مار گرائے۔ تقریباً 87 گھنٹے جاری رہنے والی یہ جھڑپ 10 مئی کو امریکا کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد ختم ہوئی۔

میامی میں خطاب کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ مختلف اخبارات نے تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد کے بارے میں متضاد خبریں شائع کیں۔ "ایک اخبار نے کہا سات، دوسرے نے کہا ایک کو نقصان پہنچا۔ میں ان کے نام نہیں لوں گا زیادہ تر جعلی خبریں دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں آٹھ طیارے گرائے گئے تھے۔”

انہوں نے بتایا کہ جب انہیں پتہ چلا کہ دونوں ممالک جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے اعلان کیا کہ اگر لڑائی جاری رہی تو امریکا کسی بھی تجارتی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔ "میں نے کہا، اگر وہ جنگ کر رہے ہیں، تو ہم ڈیل نہیں کریں گے۔ کچھ دیر بعد مجھے فون آیا وہ امن چاہتے ہیں۔ وہ رک گئے۔ میں نے کہا شکریہ، اب تجارت کریں۔ کیا یہ زبردست نہیں؟”

گزشتہ ماہ بھی ٹرمپ نے یہی دعویٰ کیا تھا کہ ان کی مداخلت سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ "ایٹمی تصادم” ٹل گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "سات نئے اور خوبصورت طیارے” تباہ ہوئے جن کا اشارہ بھارت کے نقصان کی جانب تھا۔

More From Author

کراچی ایئرپورٹ پر سفر پر پابندی کی خبریں بے بنیاد قرار ایف آئی اے کی وضاحت

شاہد آفریدی ایک بار پھر پاکستان کی نمائندگی کریں گے، اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ایکشن کے لیے تیار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے