ویسٹ انڈیز ٹیسٹ کے بعد عثمان خواجہ کا SEN سے بات کرنے سے انکار، صحافی پیٹر لیلور سے اظہار یکجہتی

بریج ٹاؤن: آسٹریلوی اوپنر عثمان خواجہ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے پہلے دن کے اختتام پر اسپورٹس براڈکاسٹر SEN سے بات کرنے سے انکار کر دیا — اور یہ قدم بظاہر سینئر کرکٹ صحافی پیٹر لیلور کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر اٹھایا گیا ہے، جنہیں رواں سال فلسطین کے حق میں سوشل میڈیا پوسٹس کرنے پر SEN سے ہٹا دیا گیا تھا۔

پیٹر لیلور، جو اس وقت ویسٹ انڈیز سیریز کی کوریج Cricket Et Al پوڈکاسٹ کے ذریعے کر رہے ہیں، نے خواجہ کے اس عمل پر اظہار تشکر کیا۔
"عثمان ایک اصولوں پر قائم رہنے والے انسان ہیں۔ جب مجھے ہٹایا گیا تو ان کا ساتھ میرے لیے باعثِ افتخار تھا اور ان کی مسلسل حمایت کی میں قدر کرتا ہوں،” لیلور نے ایک بیان میں کہا۔

کرکٹ آسٹریلیا نے فی الحال اس معاملے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، لیکن عثمان خواجہ کا یہ مؤقف ان کی اس سے قبل کی گئی باتوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ 2022 میں سری لنکا کے دورے کے دوران بھی خواجہ نے پیٹر لیلور کی حمایت کی تھی۔

اپنے انسٹاگرام پر خواجہ نے لکھا تھا،
"غزہ کے لوگوں کے لیے آواز اٹھانا نہ تو یہودیت دشمنی ہے اور نہ ہی میرے آسٹریلوی یہودی بھائیوں اور بہنوں کے خلاف ہے — یہ اسرائیلی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف ہے۔”
"یہ انصاف اور انسانی حقوق کی بات ہے۔ بدقسمتی سے یہود اور مسلمانوں کے خلاف نفرت ہمیشہ موجود رہے گی۔
پیٹ ایک اچھے دل کا اچھا انسان ہے، وہ اس سے بہتر سلوک کا حقدار ہے۔”

خواجہ انسانی حقوق کے معاملے پر ہمیشہ کھل کر بولتے رہے ہیں، چاہے وہ سوشل میڈیا ہو یا میدان۔ 2023 میں پاکستان کے خلاف ایک ٹیسٹ کے دوران، انہوں نے "All lives are equal” اور "Freedom is a human right” جیسے پیغامات والے جوتے پہننے کی کوشش کی، جس پر ICC نے انہیں روک دیا۔ جواباً انہوں نے سیاہ بازو بند باندھا اور اپنے لباس پر موجود ان پیغام

More From Author

کراچی میں مبینہ ‘را’ ایجنٹس’ گرفتار، اسلحہ اور حساس مواد برآمد

ایران کے جوہری مسئلے کا پرامن حل ضروری ہے، پاکستان کا اقوام متحدہ میں مؤقف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے