اسلام آباد – 12 جولائی 2025: وفاقی حکومت کی جانب سے نجی شعبے سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا اشتہار جاری ہونے کے چند روز بعد ہی وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطحی وزارتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو بیوروکریسی کے نظام میں اصلاحات اور اقتصادی وزارتوں میں سیکریٹریز کی بھرتیوں کے طریقۂ کار کا ازسرِنو جائزہ لے گی۔
تشکیل دی گئی کمیٹی میں وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وزیرِ توانائی سردار اویس لغاری، سیکریٹری تجارت جواد پال اور چیئرمین ایف بی آر رشید لانگریال شامل ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نجی شعبے سے آنے والے ماہرین کی سول سروس میں موزوں سطح پر شمولیت کا تفصیلی جائزہ لے۔
یہ کمیٹی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں کام کرنے والی دو دیگر اصلاحاتی کمیٹیوں کے ساتھ بھی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرے گی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق حکومت کا مقصد سرکاری اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، تاکہ میرٹ پر ماہر افراد کو شامل کیا جا سکے، ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگی لائی جا سکے اور گورننس کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں حکومت کی جانب سے ایک اشتہار جاری کیا گیا، جس میں نجی شعبے سے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز (PAOs)، ٹیکنیکل ایڈوائزرز اور مختلف اداروں کے سربراہان کی خدمات حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی۔ یہ تقرریاں سات اہم معاشی وزارتوں — خزانہ، پیٹرولیم، توانائی، منصوبہ بندی، صنعت و پیداوار، قومی فوڈ سیکیورٹی، اور ووکیشنل ایجوکیشن — میں کی جانی ہیں، جو اس وقت پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) کے افسران کے پاس ہیں۔
ذرائع کے مطابق حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں بعض شرکاء نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر نجی شعبے کے افراد کو براہِ راست وفاقی سیکریٹری جیسے اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا تو اس سے گورننس، احتساب اور پارلیمانی نگرانی کا پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ ایک سینئر افسر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ایسا شخص جسے حکومتی نظام کا تجربہ ہی نہ ہو، اسے وفاقی سیکریٹری کے عہدے پر تعینات کرنا خطرناک تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔”
تنقید کرنے والوں کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کا سبب بیوروکریسی نہیں بلکہ پالیسیوں میں عدم تسلسل اور معاہدوں کی خلاف ورزیاں ہیں — اور ان مسائل کا حل صرف سیکریٹریز کی تبدیلی نہیں۔
بعض وفاقی وزراء نے اس پر ناراضی کا اظہار کیا کہ ان کی وزارتوں کے سیکریٹریز کی آسامیوں کے لیے اشتہار شائع کیا گیا، جبکہ ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔ ایک وزیر نے اسے "قبل از وقت اور غیر مناسب اقدام” قرار دیا۔
تاہم سب کی رائے منفی نہیں تھی۔ وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ نے واضح کیا کہ حکومت نے اپنے فیصلے سے پیچھے قدم نہیں ہٹایا، بلکہ حکمت عملی کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اُن کے مطابق، "مقصد صرف بیوروکریسی کو ہٹانا نہیں بلکہ ایک ایسا باصلاحیت پول تیار کرنا ہے جو واضح کردہ کرداروں میں خدمات سرانجام دے سکے۔”
اصل بحث اب اس بات پر ہے کہ نجی شعبے سے آنے والے ماہرین کو کس درجے پر سول سروس میں شامل کیا جائے؟ اکثر حلقوں کا خیال ہے کہ انہیں براہِ راست وفاقی سیکریٹری بنانے کے بجائے گریڈ 20 یا 21 میں یا ٹیکنیکل ایڈوائزری رول میں شامل کیا جائے، تاکہ وہ سرکاری نظام سے مانوس ہو سکیں۔
ادھر اشتہار پر بھی سوالات اٹھے ہیں — نہ تو وزارتوں کے نام دیے گئے، نہ ہی قابلیت یا ذمہ داریوں کی وضاحت کی گئی۔ صرف دو ہفتے میں درخواستیں طلب کی گئیں، جس سے تاثر پیدا ہوا کہ معاملہ جلدبازی میں لیا جا رہا ہے۔
نجی شعبے سے ماہرین کو ماضی میں بھی سرکاری شعبے میں لانے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، کیونکہ سرکاری تنخواہیں، اختیارات کی کمی اور سیاسی مداخلت جیسے مسائل نے اُن کی دلچسپی کم کر دی ہے۔ ایک سینئر بیوروکریٹ کے مطابق، "جب تک تنخواہوں اور ملازمت کی سیکیورٹی میں بہتری نہیں لائی جائے گی، اعلیٰ درجے کے ماہرین حکومت میں آنے کا خطرہ نہیں لیں گے۔”
اس کے ساتھ ساتھ، صوبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان افسران بھی وفاقی حکومت میں کام کرنے سے گریزاں ہیں، کیونکہ صوبوں میں ترقی اور مراعات کا ڈھانچہ زیادہ بہتر ہے۔ وفاق نے کچھ عرصہ قبل 140 فیصد ایگزیکٹو الاؤنس دیا تھا تاکہ اس رجحان کو روکا جا سکے، مگر خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہو سکے۔
وزیراعظم تاہم اصلاحات کے حوالے سے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اپنے قریبی حلقے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم 70 سال پرانے نظام کے ساتھ جدید معیشت نہیں چلا سکتے۔ اصلاحات اب ایک آپشن نہیں بلکہ ضرورت ہیں۔” آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا حکومت نجی شعبے سے براہِ راست وفاقی سیکریٹریز کی تقرری کے منصوبے پر قائم رہتی ہے یا ایک معتدل اور قابلِ عمل راستہ اختیار کرتے ہوئے انہیں مرحلہ وار، ذمہ دار کرداروں میں سول سروس کا حصہ بناتی ہے