18 جولائی 2025 | کراچی
سندھ حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پالیسی کے اعلان نے شہری حلقوں میں تشویش اور بحث کو جنم دے دیا ہے۔ حکام نے واضح کر دیا ہے کہ یہ پالیسی کسی بھی دباؤ کے باوجود پورے صوبے میں نافذ کی جائے گی۔
حکومتی ترجمان سعدیہ جاوید نے ایک میڈیا بریفنگ میں کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر کی پریس کانفرنس کا جواب دیتے ہوئے سندھ حکومت اس پالیسی پر مکمل طور پر قائم ہے۔
"سیکیورٹی وژن کا حصہ ہے"
سعدیہ جاوید نے اس پالیسی کو سیکیورٹی کے وسیع تر منصوبے، "سیف سٹی” کا اہم جزو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ صرف ٹیکس یا ریگولیشن کا مسئلہ نہیں، یہ شہری سلامتی، نگرانی اور جرائم کی روک تھام کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔”
انہوں نے جماعت اسلامی پر الزام عائد کیا کہ وہ ہر ترقیاتی اقدام کو سیاسی رنگ دے کر عوام کو گمراہ کرتی ہے۔ "جب عمارت گرتی ہے تو احتجاج کرتے ہیں، جب خالی کرائی جاتی ہے تو بھی احتجاج کرتے ہیں۔ یہ رویہ صرف سیاست کی نظر سے ترقی دیکھنے کا نتیجہ ہے۔”
سعدیہ جاوید نے مزید کہا کہ "نئی نمبر پلیٹس عوام کی حفاظت کے لیے ہیں، اس کی مخالفت صرف لاعلمی یا بدنیتی کی عکاسی کرتی ہے۔”
شہری مشکلات کا شکار
دوسری جانب شہریوں کی بڑی تعداد اس پالیسی سے پریشان دکھائی دیتی ہے۔ کراچی میں 35 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں اور 23 لاکھ سے زیادہ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، اور ان سب کے لیے نئی نمبر پلیٹس جاری کرنا ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔
"مجھے ٹریفک پولیس نے روکا اور کہا کہ پرانی نمبر پلیٹ اب غیرقانونی ہے، لیکن جب میں ایکسائز دفتر گیا تو انہوں نے کہا کہ ابھی کوئی سرکاری حکم نامہ جاری نہیں ہوا،” گلشنِ اقبال کے رہائشی علی خان نے شکایت کی۔ "جب ادارے آپس میں متفق نہ ہوں تو عوام کیا کرے؟”
لاگت اور سہولت — دونوں پر سوالات
نئی نمبر پلیٹس کی قیمت موٹر سائیکل کے لیے 1,850 روپے اور کار کے لیے 2,450 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اگرچہ شہریوں کی بڑی تعداد قیمت کو مناسب سمجھتی ہے، مگر اصل مسئلہ طریقہ کار کا ہے۔ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ آن لائن درخواستیں تو وصول کر رہا ہے، لیکن نمبر پلیٹس کورئیر کے ذریعے گھروں تک نہیں بھیجی جاتیں۔
"جب سب کچھ آن لائن ہو رہا ہے تو پلیٹس بھی گھر بھیجی جائیں،” اسکول ٹیچر سائمہ احمد نے کہا۔ "ہم نے پیسے آن لائن دیے، اب ایک پوری چھٹی ضائع کرکے لائن میں لگنا پڑتا ہے۔”
سیاست کا رنگ
یہ مسئلہ اب صرف پالیسی یا سیکیورٹی کا نہیں رہا — بلکہ ایک سیاسی جنگ میں بدل چکا ہے۔ جماعت اسلامی اسے ایک ٹیکس جمع کرنے کی چال کہتی ہے، جبکہ سندھ حکومت اسے اپوزیشن کی جانب سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتی ہے۔
"یہ معاملہ اب محض نمبر پلیٹس کا نہیں رہا، یہ سیاسی مؤقف اور مقبولیت کا مسئلہ بن گیا ہے،” ایک سینئر تجزیہ کار نے رائے دی۔ "اور اس جنگ میں پس عوام رہی ہے۔”
آگے کا راستہ؟
اگرچہ نئی نمبر پلیٹس کا مقصد شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے، لیکن اس کے نفاذ کے طریقہ کار نے عوام میں بے چینی کو جنم دیا ہے۔ مختلف محکموں کے درمیان رابطے کا فقدان، عوامی آگاہی کی کمی، اور پولیس کی غیر واضح حکمتِ عملی نے صورتحال کو مزید الجھا دیا ہے۔ فی الحال، ایسا لگتا ہے کہ سندھ حکومت پالیسی واپس لینے یا مؤخر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی — اور شہریوں کو چالان، قطاروں اور کنفیوژن کے اس راستے پر چلنا ہوگا۔ اگر شفافیت اور سہولت کو ترجیح نہ دی گئی، تو یہ "سیکیورٹی اقدام” خود عوامی انتشار کا باعث بن سکتا ہے