18 جولائی 2025 | اسلام آباد
پاکستان بھر میں مون سون بارشوں نے ایک بار پھر قہر ڈھا دیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جون 26 سے 17 جولائی کے درمیان مختلف بارش سے متعلقہ حادثات میں 178 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 491 زخمی ہوئے۔
ریسکیو ادارے اور مقامی انتظامیہ مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن بارشوں کی شدت اور تسلسل نے صورتحال کو خاصا خطرناک بنا دیا ہے۔
پنجاب سب سے زیادہ متاثر
صوبوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان پنجاب میں ہوا جہاں 103 اموات رپورٹ ہوئیں۔ اس کے بعد خیبر پختونخوا میں 38، سندھ میں 20، اور بلوچستان میں 16 افراد جان سے گئے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہی 54 افراد جاں بحق اور کم از کم 227 زخمی ہوئے — جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بارشوں کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق ہلاکتوں کی بڑی وجوہات میں فلیش فلڈنگ، مکانات کا گرنا اور زمین کھسکنے کے واقعات شامل ہیں۔ ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا:
"ان بارشوں کی شدت اور بے ترتیبی نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ہمیں فوری طور پر مزید تیاری کی ضرورت ہے۔”
راولپنڈی میں زندگی مفلوج
راولپنڈی میں صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ جمعہ کو ضلعی سطح پر تعطیل کا اعلان کیا گیا کیونکہ شہر کی سڑکیں پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ شہر کے بیچوں بیچ بہنے والا مشہور نالہ لئی اپنی حد سے تجاوز کر چکا ہے، اور نشیبی علاقوں میں رہائشیوں کو فوری انخلا کی وارننگ جاری کی جا چکی ہے۔
شہری علاقوں میں سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، دکانیں زیرِ آب آ چکی ہیں اور لوگ کمر تک پانی میں چلنے پر مجبور ہیں۔ گوالمنڈی اور کٹاریاں پل کے نیچے پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
دھوک رتہ کے ایک رہائشی فیصل خان کا کہنا تھا:
"نالہ لئی کو پہلے بھی اُبلتے دیکھا ہے، مگر اس بار کچھ الگ ہے — زیادہ خطرناک، زیادہ غیر یقینی۔ لوگ خوفزدہ ہیں کہ یہ صورتحال کسی بڑے سانحے میں نہ بدل جائے۔”
گرمی سے نجات، لیکن بھاری قیمت پر
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان بارشوں نے کئی ہفتوں سے جاری شدید گرمی کی لہر کا خاتمہ ضرور کر دیا ہے، لیکن اس کے بدلے میں ملک کو انسانی جانوں، معیشت اور انفراسٹرکچر کا بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
بارشوں کے بعد بجلی کی بندش، سڑکوں کی بندش، اور پینے کے پانی کی قلت جیسے مسائل بھی سر اٹھا چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ریلیف ایجنسیز فوری امداد کی اپیل کر رہی ہیں۔
آنے والے دن: ایک قومی امتحان
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ریلیف آپریشنز جاری ہیں۔ مگر ماہرین کے مطابق ابھی بارشوں کا سلسلہ ختم ہونے والا نہیں — اور اس کا مطلب ہے کہ بحران ابھی باقی ہے۔
پاکستان کے شہریوں کے لیے یہ مون سون صرف موسم نہیں، بلکہ ایک کٹھن آزمائش بن چکی ہے — جس میں زندگیاں، گھر، اور امیدیں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔
ایک سینیئر ریسکیو اہلکار کا کہنا تھا:
"یہ صرف قدرتی آفت نہیں — یہ ایک قومی ہنگامی صورتحال ہے، جس کے لیے فوری اقدامات، طویل مدتی منصوبہ بندی اور عوامی یکجہتی کی ضرورت ہے۔” بادل اب بھی چھائے ہوئے ہیں، ندی نالے اب بھی ابل رہے ہیں — اور سوال یہ ہے کہ ہماری زمین کتنا پانی اور عوام کتنی آزمائش مزید برداشت کر سکتے ہیں؟