لاہور:
لاہور کے علاقے پی آئی اے روڈ پر واقع ایک ریسٹورنٹ سے کھانا کھانے کے بعد دو کمسن بہنیں جاں بحق ہوگئیں جبکہ ان کا بھائی تاحال تشویشناک حالت میں زیرِ علاج ہے۔
پولیس کے مطابق محمد عظیم نامی شہری نے 16 اگست کو اپنے اہلِ خانہ کے لیے مقامی ریسٹورنٹ سے کھانا خریدا۔ کھانا کھانے کے کچھ ہی دیر بعد اس کے تینوں بچے — چھ سالہ طحریم، چار سالہ ارحا اور آٹھ سالہ حاشر — شدید علیل ہوگئے۔
بچوں کو فوری طور پر شیخ زاید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ ان کی حالت کھانے سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث بگڑی ہے۔ طبی کوششوں کے باوجود طحریم اور ارحا 18 اور 19 اگست کی رات کو دم توڑ گئیں، جبکہ حاشر اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
متوفی بچوں کے والد کی مدعیت میں ستوکتلہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ریسٹورنٹ کے مالک اور سات ملازمین کو حراست میں لے لیا ہے۔
تحقیقات کرنے والے افسران کے مطابق ریسٹورنٹ سے حاصل کیے گئے کھانے کے نمونے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں تاکہ بیماری کی اصل وجہ سامنے آسکے۔ حکام یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا کھانے میں زائدالمیعاد اجزاء استعمال کیے گئے یا غیر معیاری طریقے سے تیار کیا گیا۔
ماڈل ٹاؤن کے ایس پی اخلاق اللہ تارڑ نے بتایا کہ تفتیش کو ہر پہلو سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس فرانزک اور محکمہ صحت کے ماہرین کے ساتھ مل کر یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا کھانے میں زہریلے مادے، مضر کیمیکلز شامل تھے یا یہ ناقص ذخیرہ اندوزی کے باعث آلودہ ہوا۔
پولیس کے مطابق، لیبارٹری کی رپورٹ آنے کے بعد ہی ملزمان کے خلاف دفعات کا تعین کیا جائے گا۔ گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔