اسلام آباد – 7 جولائی 2025
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے غزہ میں جاری انسانی بحران کو کربلا کے سانحے سے تشبیہ دیتے ہوئے مسلم دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ خاموشی ترک کرے اور عملی اقدام کرے۔
ہفتے کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کربلا کے ابدی پیغام پر روشنی ڈالی — وہ لمحہ جب رسول اکرم ﷺ کے خاندان نے ظلم کے خلاف اکیلے کھڑے ہوکر دین اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا، "کربلا ہمیں عظیم سبق دیتی ہے۔ یہ ایثار کی اعلیٰ مثال ہے، جہاں نبی کریم ﷺ کا خاندان اسلام کی عزت و وقار کے لیے سب کچھ قربان کر گیا، مگر انہیں میدان میں تنہا چھوڑ دیا گیا۔”
غزہ کے حالات پر بات کرتے ہوئے آصف نے کہا کہ آج ایک اور کربلا غزہ میں جنم لے رہی ہے۔ "اب تک 70 ہزار سے زائد مسلمان مرد و بچے شہید ہو چکے ہیں، مگر مسلم دنیا خاموش ہے۔ 58 مسلم ممالک میں سے ایک بھی کھل کر احتجاج نہیں کر رہا۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی بمباری غزہ میں شدت اختیار کر چکی ہے، اور صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 78 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ اس سب کے باوجود، مسلم دنیا کی طرف سے اب تک محض بیانات ہی سننے کو ملے ہیں۔
آصف نے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا، "کسی کو تو یہ ظلم روکنا ہوگا۔ کب تک ہم لاشیں گنتے رہیں گے؟ مسلم اُمہ کب جاگے گی؟”
ادھر اسرائیلی وفد قطر روانہ ہو چکا ہے تاکہ جنگ بندی مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے، مگر غزہ کی زمین پر حالات اب بھی نہایت خطرناک ہیں۔ خواجہ آصف کا یہ پیغام صرف ایک سیاسی بیان نہیں، بلکہ ایک درد بھری پکار ہے — جو اُن لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے، جو خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں جبکہ غزہ میں انسانیت دم توڑ رہی ہے اور کوئی سننے والا نہیں