اسلام آباد – 2 اگست 2025:
سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں کے پاکستان آنے کے معاملے نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے، جب وزارت داخلہ نے عمران خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے کیے گئے دعوے کی تردید کر دی۔
علیمہ خان نے جمعہ کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ (ایکس / سابقہ ٹوئٹر) میں کہا کہ سلیمان اور قاسم خان نے لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے ذریعے ویزے کی درخواستیں دی ہیں اور اب وہ وزارت داخلہ سے منظوری کے منتظر ہیں۔
علیمہ نے لکھا:
"چند روز قبل سلیمان اور قاسم نے لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے ساتھ اپنے ویزے جمع کروائے۔ سفیر نے بتایا ہے کہ وہ اسلام آباد میں وزارت داخلہ سے منظوری کا منتظر ہے۔”
لیکن کچھ ہی گھنٹوں بعد وزارت داخلہ کے ذرائع نے اس بیان کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے کسی قسم کی ویزا درخواست اس وقت وزارت کے زیر غور نہیں ہے، اور ویسے بھی ایسے معاملات وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔
ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:
"یہ تاثر دینا کہ ویزا کا معاملہ وزارت داخلہ کے پاس ہے، درست نہیں۔ ایسے ویزے ہائی کمیشنز اور وزارت خارجہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔”
یہ تنازعہ اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب وزیر مملکت برائے داخلہ، طلال چوہدری نے علیمہ خان کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ عمران کے بیٹے NICOP (اوورسیز پاکستانیوں کا قومی شناختی کارڈ) رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا: "اگر واقعی ان کے پاس NICOP ہے، تو پھر ویزا کی کیا ضرورت ہے؟ اگر انہیں ویزے کی ضرورت ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پاکستانی شہری نہیں ہیں۔ اصل حقیقت کیا ہے؟”
علیمہ خان پہلے بھی کہہ چکی ہیں کہ عمران خان کے بیٹے پاکستانی شہری ہیں اور جلد یا بدیر وہ اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان ضرور آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا: "اگر خدانخواستہ ان کے ساتھ کچھ ہوا، تو یہ بین الاقوامی مسئلہ بن جائے گا۔”
دوسری طرف تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس بات کی تردید کی ہے کہ عمران خان نے جیل میں رپورٹرز کو کہا ہو کہ ان کے بیٹے نہ پاکستان آئیں گے اور نہ ہی کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لیں گے۔ پارٹی نے ایسی خبروں کو "من گھڑت اور بے بنیاد” قرار دیا۔
اگرچہ حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا، لیکن طلال چوہدری نے واضح کیا کہ عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان آنے سے کوئی نہیں روکے گا، بشرطیکہ وہ قانونی تقاضے پورے کریں۔
انہوں نے کہا:
"اگر وہ قانون کے دائرے میں رہیں تو ان کے ویزے 24 گھنٹے کے اندر جاری کیے جا سکتے ہیں۔”