منگل کے روز سیکڑوں طلبہ ڈھاکہ کے میل اسٹون اسکول اینڈ کالج کی جلی ہوئی عمارت کے باہر جمع ہو گئے، جہاں وہ ایک دلخراش واقعے پر سوالات اٹھا رہے تھے—ایک فوجی طیارہ اسکول سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں بچوں سمیت کئی افراد جان کی بازی ہار گئے۔
پیر کا دن ایک عام تعلیمی دن تھا، جو اچانک قیامت میں بدل گیا۔ بنگلہ دیش ایئر فورس کا ایک جیٹ طیارہ فضا میں خرابی کے بعد اسکول کی عمارت سے جا ٹکرایا، جس سے دو منزلہ عمارت میں آگ بھڑک اٹھی اور ہر طرف دھواں پھیل گیا۔
جب طیارہ گرا، تب بچے اپنی کلاسز ختم کر رہے تھے اور والدین انہیں لینے اسکول گیٹ کے باہر موجود تھے۔ اس حادثے میں کم از کم 31 افراد جان بحق ہوئے، جن میں 25 بچے شامل تھے—یہ ملک کی حالیہ تاریخ کا سب سے المناک فضائی حادثہ بن گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، 165 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے بہت سے کو شدید جلنے کے زخم آئے۔
زیادہ تر جاں بحق اور زخمی بچوں کا ہونا اس سانحے کو اور بھی زیادہ تکلیف دہ بنا رہا ہے۔ پورے 17 کروڑ آبادی والے ملک میں سوگ کی کیفیت چھا گئی ہے۔
منگل کے روز جب فوجی اور پولیس اہلکار جائے حادثہ پر ملبہ ہٹا رہے تھے، وہاں موجود طلبہ اور عوام نے حکام سے سوالات کرنا شروع کر دیے۔ بعض طلبہ کا کہنا تھا کہ اصل جانی نقصان سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ جانی نقصان کے حوالے سے معلومات چھپا رہی ہے۔ ریاستی میڈیا بی ایس ایس نیوز کے مطابق، چیف ایڈوائزر کے دفتر نے وضاحت کی ہے کہ جان بحق ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
حادثے کے مقام پر موجود لوگ اب بھی صدمے کی حالت میں تھے۔ اسکول کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے لیکچرار محمد عمران حسین نے بتایا کہ وہ حادثے کے وقت اسکول کے دوسرے حصے میں تھے۔
"آواز ناقابل برداشت تھی۔ میں نے باہر دیکھا تو طیارے کی دم نظر آئی اور ایک زوردار شعلہ بھڑکا۔” حسین نے کہا، "ہم نے بچوں اور والدین کی لاشوں کے ٹکڑے بکھرے ہوئے دیکھے۔ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔”