لاہور: سابق قومی ٹیم کے فاسٹ بولر شوئیب اختر نے ایشیا کپ کے اہم سپر فور میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد قومی ٹیم کی کارکردگی پر سخت تنقید کی ہے۔
“راولپنڈی ایکسپریس” کے نام سے مشہور شوئیب اختر کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان 200 رنز بھی بنا لیتا تب بھی ہماری بولنگ اس ہدف کا دفاع کرنے کے قابل نہیں تھی۔ انہوں نے فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر فہیم اشرف کو نئی گیند دی جاتی تو وہ زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے تھے۔
شوئیب اختر نے جز وقتی بولر صائم ایوب کو مرکزی اسپنر ابرار احمد پر ترجیح دینے پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا، “ابرار آپ کا مین بولر ہے، لیکن آپ نے صائم کو اس سے پہلے استعمال کیا۔ یہ بولنگ لائن اپ کسی طور مضبوط نہیں تھی۔ 200 رنز بھی ہوتے تو جیتنا مشکل تھا۔”
سابق فاسٹ بولر حارث رؤف کی کارکردگی سے بھی خاصے ناخوش نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ حارث ایک بھی بھارتی کھلاڑی کو آؤٹ نہ کر سکے، اور جو وکٹیں ملیں وہ زیادہ تر بھارتی بلے بازوں کی اپنی غلطیوں کی وجہ سے تھیں۔ “سوریا کمار یادیو نے ایک خراب شاٹ کھیلا، اسی لیے وکٹ ملی، ورنہ ہماری بولنگ میں کوئی خاص دم نہیں تھا،” اختر نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ابھیشیک شرما وکٹ پر کچھ دیر اور رک جاتے تو بھارت یہ میچ پانچ اوور پہلے ہی ختم کر دیتا۔ “یہ میچ انیسویں اوور تک صرف اس لیے گیا کیونکہ ابھیشیک آؤٹ ہوگئے، ورنہ نتیجہ اس سے کہیں پہلے آجاتا۔”
شوئیب اختر نے بھارت کی ٹیم کے انتخاب پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ کے ایل راہول کو شامل نہ کرنا حیران کن تھا۔ “یہ بھارتی ٹیم کے ایل راہول کے بغیر تھی، جو ہمیشہ بولرز کو مشکل میں ڈالتا ہے۔ اس کی جگہ سنجو سیمسن کو کھلایا گیا جو ٹیم کا کمزور پہلو ثابت ہوئے، اور اسی وجہ سے میچ انیسویں اوور تک گیا۔”
سابق فاسٹ بولر کے یہ ریمارکس پاکستان کی بولنگ میں کمی اور حکمت عملی پر بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ ٹیم پر اگلے میچ سے قبل ازسرِ نو حکمت عملی بنانے کا دباؤ بڑھ چکا ہے۔