اسلام آباد | 19 جولائی 2025
پاکستان کی سینیٹ نے جمعے کے روز ایک اہم قانونی تبدیلی کرتے ہوئے فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2025 منظور کر لیا، جس کے تحت خواتین کو عوامی طور پر بے لباس کرنے یا ہائی جیکر کو پناہ دینے جیسے سنگین جرائم میں سزائے موت ختم کر دی گئی ہے۔ اس کی جگہ زیادہ سے زیادہ 25 سال قید کی سزا رکھی گئی ہے، جو ملک کے نظامِ عدل میں ایک بڑے فکری تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ اجلاس ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں 1972 کے حوالگیِ مجرمین کے قانون اور 1951 کے شہریت کے قانون میں ترامیم پر مبنی دو مزید بل بھی منظور کیے گئے۔ یہ تمام بلز وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کی جانب سے پیش کیے گئے۔
سزائے موت کے بجائے سخت قید
بحث کا مرکز تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 354-A اور 402-C تھیں، جو سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں متعارف کرائی گئی تھیں۔ ان دفعات کے تحت خواتین کو سرِعام بے لباس کرنے جیسے جرائم پر سزائے موت مقرر تھی، جو اس دور میں ریاست کے سخت مؤقف کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
تاہم، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پُرجوش انداز میں اس قانون میں تبدیلی کی حمایت کی اور کہا کہ "سزا کی شدت جرائم کو کم نہیں کرتی، اصل مسئلہ نظام کی کمزوری ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ سزائے موت صرف شرعی حدود کے تحت مخصوص جرائم تک محدود ہونی چاہیے، باقی تمام کیسز میں انصاف اور اصلاح کو بنیاد بنایا جائے۔
انہوں نے کہا، "ہمیں مارشل لا کے دور کی اس تلخ میراث سے جان چھڑانی ہوگی۔ آج بھی ہمارے ہاں جرائم کی شرح بہت زیادہ ہے، حالانکہ سزائیں سخت ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نظام کی اصلاح ناگزیر ہے۔”
حوالگی کے قانون میں تیزی
سینیٹ نے حوالگیِ مجرمین (ترمیمی) بل 2025 بھی منظور کیا، جس کا مقصد ایک طویل اور سست عدالتی عمل کو سہل بنانا ہے۔
موجودہ قانون کے مطابق، کسی بھی ملزم کی حوالگی کے لیے کابینہ کی دو بار منظوری درکار ہوتی ہے، جو اکثر سیاسی مصروفیات اور وقت کی قلت کے باعث تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے۔ نئی ترمیم میں ابتدائی منظوری کے لیے کابینہ سے منظوری کی شرط ختم کر دی گئی ہے تاکہ مقدمات جلد نمٹائے جا سکیں۔
وفاقی وزیرِ قانون نے واضح کیا کہ نگرانی کا عمل بدستور موجود رہے گا اور حوالگی کے حتمی فیصلے میں وفاقی حکومت کا کردار برقرار رہے گا۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خوشخبری
سینیٹ نے پاکستان شہریت (ترمیمی) بل 2025 بھی منظور کر لیا، جس کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے ایک دیرینہ مسئلے کا حل نکالنا تھا۔ بہت سے اوورسیز پاکستانی دوسرے ملکوں میں شہریت حاصل کرنے کے لیے اپنی پاکستانی شہریت ترک کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
نئی ترمیم کے تحت، اب ایسے پاکستانی جو بعد میں دوہری شہریت کے معاہدے میں شامل ممالک کے شہری بن چکے ہوں، دوبارہ پاکستانی شہریت حاصل کر سکیں گے۔
یہ قانون اوورسیز کمیونٹی کے لیے ریاست کی جانب سے ایک مثبت اشارہ ہے، جو ملکی معیشت میں ریونیو، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تعلیم اور گورننس میں بہتری کی کوشش
اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر نے فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیمی) بل 2025 پیش کیا۔
اس ترمیم کا مقصد بورڈ کو زیادہ خودمختار بنانا، بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنا اور اسے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت داری کی اجازت دینا ہے۔ بورڈ کی تنظیمِ نو میں صوبائی نمائندگی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
وزیر قانون تارڑ نے بتایا کہ یہ اقدام وفاقی حکومت پر بوجھ کم کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے، اور اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ فیصلے جلد اور بہتر طریقے سے ہو سکیں۔
سربیا میں لڑکیوں کی اسمگلنگ کا انکشاف
اجلاس کے دوران سینیٹر ہمایوں مہمند نے تشویشناک انکشاف کیا کہ پاکستانی لڑکیوں کو سربیا بھیج کر جسم فروشی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ کام نجی بھرتی ایجنسیاں کر رہی ہیں۔
اس پر وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے وضاحت کی کہ پاکستانی سفارتخانے کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا، اور بتایا کہ 38 افراد کو سربیا میں پھل و سبزیوں کے فارم پر ملازمت کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس معاملے کو مزید تحقیقات کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
دیگر امور
سینیٹر عبدالشکور نے نجی میڈیکل کالجوں کی لوٹ مار پر آواز اٹھائی اور مطالبہ کیا کہ طلبہ کو مہنگی فیسوں اور ناقص تعلیم سے بچانے کے لیے ضابطے سخت کیے جائیں۔
اس کے علاوہ، بیرسٹر عقیل ملک نے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی آرڈیننس 2025 بھی ایوان میں پیش کیا، جس کا مقصد ملک میں خوراک کے معیار اور زرعی تجارت کو بہتر بنانا ہے۔
وسیع تناظر
سینیٹ کا یہ حالیہ اجلاس اس بات کی جھلک ہے کہ پاکستانی پارلیمان اب انصاف اور اصلاحات، خودمختاری اور عالمی انضمام، اور سرکاری مشینری کی استعداد میں توازن قائم کرنے کی طرف گامزن ہے۔
جہاں ایک طرف ناقدین سزائے موت کے خاتمے کو ایک کمزور پیغام قرار دے رہے ہیں، وہیں اصلاح پسند اسے ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں — ایک ایسا قدم جو سزا سے زیادہ اصلاح، اور انتقام کے بجائے انسانی حقوق اور منصفانہ عدالتی عمل پر زور دیتا ہے۔
ان ترامیم نے قانون، شہریت، تعلیم اور انصاف کے میدان میں ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے — ایک ایسا باب جو پاکستان کو قانونی اور انتظامی طور پر مزید مستحکم بنانے کی سمت لے جا سکتا ہے۔