اسلام آباد: پاکستان کی دواساز صنعت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد پہنچانے کے لیے 4 کروڑ روپے مالیت کی ادویات اور طبی سامان فراہم کیا ہے۔ یہ امداد خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے ان علاقوں میں پہنچائی جا رہی ہے جہاں آلودہ پانی اور خراب حالاتِ صفائی کے باعث وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
یہ اقدام وزیرِاعظم شہباز شریف اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی ہنگامی اپیل کے بعد کیا گیا، کیونکہ طبی حکام کے مطابق متاثرہ خاندانوں میں ڈائریا، گیسٹرو، ملیریا، ٹائیفائیڈ، سانس کے امراض اور جلدی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
وفاقی وزارتِ صحت کے مطابق، امدادی سامان میں اینٹی بایوٹکس، ملیریا اور ڈائریا کی ادویات، درد کش گولیاں، نسوں میں لگنے والے سیال (IV fluids)، او آر ایس، اینٹی فنگل اور اینٹی سیپٹک ادویات، سانس کے امراض کی دوائیں، تشخیصی کٹس، سرجیکل آلات اور حفاظتی سامان شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیکیج متاثرہ اضلاع میں بیماریوں کے پھیلاؤ کے تیز رفتار جائزے کے بعد تیار کیا گیا تاکہ ممکنہ وباؤں کو قابو میں رکھا جا سکے۔
وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے دواساز صنعت کے بروقت اقدام کو سراہتے ہوئے کہا: “فارما انڈسٹری نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ مشکل وقت میں یہ قوم کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ بروقت قدم بے شمار جانیں بچانے کا باعث بنے گا۔”
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PPMA) کے چیئرمین توقیرالحق، جو امداد کی ترسیل کی نگرانی کر رہے ہیں، نے کہا کہ یہ محض خیرات نہیں بلکہ قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ “ہم نے خاص طور پر ان بچوں کے لیے ادویات کو ترجیح دی ہے جو ڈائریا میں مبتلا ہیں، حاملہ خواتین کے لیے محفوظ اینٹی بایوٹکس، اور ان مریضوں کے لیے دوائیں جو ملیریا میں مبتلا ہیں اور جو پانی کے ٹھہرے ہوئے ذخائر میں پھنسے ہوئے ہیں۔”
امدادی سامان صوبائی محکمہ صحت اور موبائل میڈیکل یونٹس کے ذریعے تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ دور دراز کے اضلاع بھی اس سہولت سے مستفید ہوں اور امداد چند علاقوں تک محدود نہ رہے۔
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر ادویات کی مسلسل فراہمی اور حفاظتی اقدامات کو یقینی نہ بنایا گیا تو خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں ہیضے، خسرہ اور نمونیا جیسی وباؤں کے پھوٹنے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
پاکستان کی فارما انڈسٹری، جو ملک کی 70 فیصد سے زائد ادویات کی ضروریات پوری کرتی ہے، نے ایک بار پھر انسانی بحران کے دوران ہراول دستے کا کردار ادا کر کے اپنی ساکھ کو مزید مستحکم کیا ہے۔