سیالکوٹ، 27 اگست – سیالکوٹ میں تاریخ کی بدترین بارش نے شہر کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔ صرف 12 گھنٹوں کے دوران 405 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو اب تک کے تمام ریکارڈ توڑ گئی اور شہری زندگی کو مفلوج کر ڈالا۔
25 اگست کی رات سے شروع ہونے والی بارش مسلسل جاری رہی جس نے شہر کی سڑکوں، بازاروں اور اہم شاہراہوں کو دریا کا منظر دے دیا۔ متعدد علاقے کٹ کر رہ گئے جبکہ برساتی پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ ہزاروں شہری گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ بجلی کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔
فلڈ کنٹرول روم سیالکوٹ کے مطابق شدید بارش کے باعث بیشتر واپڈا فیڈر ٹرپ کر گئے، جس کے نتیجے میں شہر کے کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔ نکاسی آب کا ناقص نظام بھی بری طرح ناکام ہوگیا، جس کے باعث بارش اور گندے نالوں کا پانی گھروں تک جا پہنچا اور شہریوں کی مشکلات دوگنی ہوگئیں۔
محکمہ موسمیات نے تصدیق کی ہے کہ یہ بارش 1976 میں ہونے والی 339.7 ملی میٹر بارش کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ہے، جو اس وقت تک سب سے زیادہ تصور کی جاتی تھی۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ بارش کا یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔
ادھر ہیڈ مرالہ بیراج پر پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق بیراج کی گنجائش 11 لاکھ کیوسک ہے مگر پانی کا بہاؤ 90 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرچکا ہے، جس کے بعد نچلے علاقوں کے لیے فوری انخلا پر غور کیا جارہا ہے۔
سیلابی ریلے بھمبر نالہ میں بھی داخل ہوگئے ہیں جس سے کھاریاں اور ملحقہ دیہات متاثر ہورہے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے گلیانہ، دو دو برسالا، گجر کوٹلہ، میاں چک اور پنجن کسان کے رہائشیوں کو ہائی الرٹ رہنے اور کسی بھی وقت نقل مکانی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس تباہ کن بارش نے علاقے کے نکاسی آب اور سیلابی حفاظتی نظام کی کمزوریاں کھول کر رکھ دی ہیں۔ مزید بارش اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں۔
ریکارڈ توڑ بارش نے نہ صرف سیالکوٹ بلکہ گجرات اور قریبی اضلاع کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ محتاط رہیں، انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور ضرورت پڑنے پر فوری انخلا کے لیے تیار رہیں۔