کراچی – 15 جولائی، 2025
سندھ میں ٹریفک نظم و ضبط اور محفوظ ڈرائیونگ کے ایک نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ، ضیاء الحسن لنجار نے منگل کے روز سندھ پولیس ڈرائیونگ اسکول کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ ادارہ کراچی کے علاقے سعید آباد میں واقع پولیس ٹریننگ اسکول میں قائم کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ کی آمد پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ نے اسکول کے قیام، اس کی ساخت اور مستقبل کے اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ضیاء الحسن لنجار نے اپنے خطاب میں اس منصوبے کو "سندھ کے شہریوں کے لیے ایک تحفہ” قرار دیا اور کہا کہ اس ادارے کے قیام کا مقصد غیر محتاط ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر قابو پانا ہے۔ انہوں نے کہا،
"اب صرف تربیت یافتہ ڈرائیورز ہی سرکاری اور عوامی گاڑیاں چلانے کے مجاز ہوں گے، جس سے حادثات میں نمایاں کمی آئے گی اور سڑکیں محفوظ بنیں گی۔”
مہارت نہیں، سوچ میں تبدیلی
یہ ادارہ صرف ڈرائیونگ سکھانے تک محدود نہیں بلکہ ایک ذمے دارانہ رویے کو فروغ دینے کی کوشش بھی ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ تربیت یافتہ ڈرائیورز نہ صرف مہارت حاصل کریں گے بلکہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کو بھی اپنی عادت بنائیں گے — جو ایک ایسے شہر کے لیے ناگزیر ہے جہاں ٹریفک کا نظام اکثر بدنظمی کا شکار رہتا ہے۔
انہوں نے کہا،
"حادثات کی بنیادی وجہ وہ ذہنیت ہے جو قانون کو خاطر میں نہیں لاتی۔ یہ اسکول صرف گاڑی چلانا نہیں سکھا رہا، یہ رویہ تبدیل کر رہا ہے۔”
مشترکہ ذمے داری
ضیاء الحسن لنجار نے اس موقع پر تمام اداروں اور معاشرتی طبقات سے اپیل کی کہ وہ اس کوشش کا حصہ بنیں اور ٹریفک نظام کو بہتر بنانے میں بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے ڈی آئی جی ٹریفک کنٹرول پیر محمد شاہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں شہر میں ٹریفک قوانین کا نفاذ بہتر ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا،
"حالیہ ترامیم کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے اب سرکاری ملازمین پر بھی جرمانے عائد کر رہے ہیں، تاکہ قانون کی بالادستی ہر سطح پر قائم ہو۔”
عوام کا اعتماد، پولیس کی اصلاح
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے خطاب میں بتایا کہ ڈرائیونگ اسکول کو عوام و نجی اشتراک (Public-Private Partnership) کے تحت مزید وسعت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس میں دیانت دار افسران کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہو اور "شہری دوست پولیسنگ” کو فروغ ملے۔ ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے عمل کو شفاف اور موثر بنانے کے لیے لائسنس برانچ کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
"ٹیکنالوجی ہماری طاقت ہے۔ باڈی کیمروں نے پولیس کی نگرانی بہتر کی ہے۔ جلد ہم ٹریفک قوانین میں مزید ترامیم منظور کروانے کی سفارش کریں گے، اور سیف سٹی پروجیکٹ پر کام تیز کیا جائے گا تاکہ نظام میں بہتری آئے،” آئی جی سندھ نے کہا۔
امید کی ایک کرن
کراچی جیسے بڑھتے ہوئے شہر میں جہاں سڑکیں اور نظام ہر روز نئے چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں، وہاں سندھ پولیس ڈرائیونگ اسکول جیسے اقدامات امید کی ایک نئی کرن ہیں۔
یہ اسکول صرف ڈرائیونگ کی تربیت نہیں دے گا بلکہ ایک قانون پسند، محفوظ اور مہذب ٹریفک کلچر کی بنیاد رکھے گا۔ کیا یہ وژن حقیقت کا روپ دھارے گا؟ اس کا دارومدار سیاسی عزم، عوامی تعاون اور مسلسل اصلاحات پر ہے۔ لیکن فی الحال، اس اسکول کا افتتاح اس بات کی علامت ہے کہ تبدیلی کا سفر شروع ہو چکا ہے — اور یہ سفر سندھ میں شہری زندگی کو محفوظ بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے