راولپنڈی | 24 جولائی 2025
پاکستانی شوہر سے علیحدگی کے لیے خلع کی خواہاں ایک چینی خاتون کا مقدمہ پیچیدہ قانونی رخ اختیار کر چکا ہے، جس نے نہ صرف عدالتوں کے دائرہ اختیار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ بچی کی حوالگی اور غیر ملکی شہری کے حقوق پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
چینی شہری میر گُلی کی جانب سے دائر کیے گئے اس مقدمے میں صورتحال اس وقت مزید الجھ گئی جب دو مختلف عدالتوں نے ایک ہی دن میں متضاد فیصلے سنا دیے — ایک نے کیس کو قابلِ سماعت قرار دیا، جب کہ دوسری عدالت نے اُسے خارج کر دیا۔
سرحدوں کو عبور کرتی شادی
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، میر گلی کی شادی 2011 میں چین میں پاکستانی شہری شاہ زیب سے ہوئی، جو چارسدہ کا ایک تاجر ہے۔ اگلے ہی سال دونوں کے ہاں بیٹی صوفیہ کی پیدائش ہوئی۔ یہ بین الثقافتی رشتہ وقت کے ساتھ ساتھ بداعتمادی اور چھپائی گئی باتوں کے باعث بگڑنے لگا۔
میر گلی کا مؤقف ہے کہ شاہ زیب نے اپنی بیٹی صوفیہ کو پاکستان میں نادرا کے ساتھ رجسٹر کروایا — جس کے نتیجے میں بچی کی چینی شہریت ازخود ختم ہو گئی — اور یہ سب کچھ بغیر اُس کی مرضی اور علم کے ہوا۔ مزید یہ کہ شاہ زیب نے نہ تو میر گُلی کو اپنی بیوی کے طور پر پاکستان میں رجسٹر کروایا اور نہ ہی کسی قانونی حیثیت میں تسلیم کیا۔
اس صورتحال سے دل برداشتہ ہو کر میر گلی نے راولپنڈی کی فیملی کورٹ میں خلع کی درخواست دائر کر دی۔
دائرہ اختیار پر قانونی کشمکش
تاہم، ان کی درخواست کو فوراً ہی قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شاہ زیب کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ نکاح چین میں ہوا اور وہیں رجسٹرڈ بھی ہے، اس لیے پاکستان کی عدالتوں کو اس کیس پر کوئی اختیار حاصل نہیں۔
فیملی کورٹ کے جج تیمور افضل نے اس دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے میر گلی کی درخواست دائرہ اختیار کی بنیاد پر خارج کر دی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی روز لاہور ہائی کورٹ کی راولپنڈی بنچ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے واضح فیصلہ دیا کہ چونکہ مدعیہ اس وقت پاکستان میں مقیم ہے، اس لیے عدالت کو کیس سننے کا پورا اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے فیملی کورٹ کو ہدایت کی کہ مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے، اور وزارتِ داخلہ کو بھی میر گلی کے ویزا کیس پر ہمدردانہ غور کرنے کا حکم دیا۔
یہ متضاد عدالتی فیصلے اب ایک حساس اور جذباتی مقدمے کو مزید قانونی پیچیدگیوں میں دھکیل رہے ہیں۔
ماں کی بیٹی کے لیے قانونی جدوجہد
اس مقدمے میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ میر گلی نے اپنی 12 سالہ بیٹی صوفیہ کی حوالگی کے لیے علیحدہ درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔ بچی اس وقت اپنے والد کے ساتھ پاکستان میں مقیم ہے۔
سپریم کورٹ کے وکیل سعید یوسف خان، جو میر گلی کی پیروی کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ ان کی مؤکلہ اپنی بیٹی کے مستقبل اور فلاح و بہبود کو لے کر شدید فکرمند ہے — خاص طور پر اس صورت میں جب اُسے پاکستان میں نہ بیوی کے طور پر قانونی حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی ماں ہونے کا باقاعدہ اعتراف۔
"یہ صرف خلع کا معاملہ نہیں — یہ ایک عورت کے سنے جانے کا، قانون کی نظر میں پہچانے جانے کا اور اپنی بیٹی کے قریب رہنے کا حق ہے جب تک عدالت اس کا فیصلہ نہ کر دے،” وکیل خان نے کہا۔
ویزے کی غیر یقینی صورتحال
میر گلی کے لیے ایک اور چبھتا ہوا مسئلہ اُس کا ویزا ہے۔ چونکہ پاکستان میں اس کی قانونی حیثیت اب ایک مقدمے سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے نہ صرف اس کے قیام کا حق غیر یقینی ہے بلکہ یہ بھی واضح نہیں کہ وہ آئندہ سماعتوں میں شرکت کر سکے گی یا نہیں۔
ہائی کورٹ کی جانب سے وزارتِ داخلہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ میر گلی کے ویزے سے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے اس قانونی معاملے کو پیش نظر رکھے۔
بڑا سوال: قانون اور حقیقت کے درمیان خلا
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی شادیوں، خاص طور پر ان میں علیحدگی یا جھگڑے کی صورت میں، پاکستان میں واضح قانونی راہنمائی کی شدید کمی ہے۔
اگرچہ پاکستانی قانون غیر ملکی خواتین کو خلع کی اجازت دیتا ہے، مگر میر گلی جیسے مقدمات ظاہر کرتے ہیں کہ عملی طور پر قانونی طریقہ کار، عدالتوں کے دائرہ اختیار کے مسائل، اور بیوروکریسی کے پیچ و خم میں متاثرہ فریق بے یار و مددگار ہو سکتا ہے۔
حتمی نوٹ
فی الوقت، خلع کی اپیل اور بچی کی حوالگی کا معاملہ سیشن کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ جب تک فیصلہ نہیں آتا، ایک ماں اپنے قانونی اور جذباتی حق کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے — یہ صرف علیحدگی کا مقدمہ نہیں، یہ شناخت، عزت، اور اپنی بیٹی سے جڑے رشتے کو بچانے کی جنگ ہے۔