اسلام آباد – 17 جولائی: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں سال ستمبر میں پاکستان کا اہم اور ممکنہ طور پر تاریخی دورہ کرنے والے ہیں۔ یہ انکشاف جمعرات کو پاکستان کے دو بڑے نجی نیوز چینلز نے اپنی رپورٹوں میں نامعلوم سفارتی ذرائع کے حوالے سے کیا ہے۔
اگر یہ دورہ باضابطہ طور پر طے پا جاتا ہے، تو یہ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں میں کسی امریکی صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل صدر جارج ڈبلیو بش نے 2006 میں پاکستان کا مختصر مگر اہم دورہ کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ اسلام آباد میں قیام کے بعد بھارت کا بھی دورہ کریں گے۔ اگرچہ امریکی اور پاکستانی حکام کی جانب سے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی گئی، مگر اس خبر نے سفارتی اور سیاسی حلقوں میں خاصی ہلچل مچادی ہے۔
یہ ممکنہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ ٹرمپ اور پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ایک غیرمعمولی ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں غیر متوقع اور اہم قرار دیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نئی گرمجوشی کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے جب امریکی سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا تو ترجمان نے رائٹرز کو بتایا: "اس وقت ہمارے پاس اعلان کرنے کے لیے کچھ نہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر صدر کے دورے سے متعلق کچھ طے پایا تو اس کا باضابطہ اعلان وائٹ ہاؤس ہی کرے گا۔ دوسری جانب پاکستان کی وزارت اطلاعات نے بھی اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
اگر یہ دورہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو یہ نہ صرف امریکی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہوگا بلکہ علاقائی سیاست میں بھی بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب بھارت اس سال ’کواڈ‘ گروپ کا اجلاس منعقد کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے، جس میں امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں۔ یہ گروپ چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے مقابلے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ اگرچہ اجلاس کی تاریخوں کا اعلان ابھی نہیں ہوا، مگر کچھ مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ دورہ اسی تناظر میں ترتیب دیا جا رہا ہے۔
فی الحال دونوں ممالک کے حکام خاموش ہیں، مگر پسِ پردہ سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، اور قوی امکان ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں اس سلسلے میں باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔